اردو کے معروف صحافی، دانشور، ادیب اور فلم ساز احمد بشیر 25 دسمبر 2004ء کو لاہور میں وفات پاگئے۔ وہ گلبرگ لاہور کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔۔
احمد بشیر 24 مارچ 1922ء کو ایمن آباد ضلع گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز 1944ء میں لاہور کے ایک فلمی پرچے سے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی حیثیت سے کیا۔ 1946ء میں بمبئی چلے گئے اور وہاں بھی ایک جریدے سے وابستہ رہے۔ 1947ء میں واپس لاہور آ گئے اور پہلے ’’پاکستان ٹائمز‘‘ اور پھر ’’امروز‘‘ سے منسلک ہوئے۔ 1951ء میں حکومت سندھ سے وابستہ ہوگئے۔ بعدازاں فلم سازی کی تربیت حاصل کرنے کے لئے امریکا چلے گئے۔ 1960ء کی دہائی میں انہوں نے ایک فلم ’’نیلا پربت‘‘ بنائی۔ یہ ایک آرٹ فلم تھی، جسے سنجیدہ فلم بینوں نے بے حد پسند کیا۔ اس فلم کے تجربے کے بعد انہوں نے دوبارہ صحافت کا شعبہ اختیار کیا اور مساوات، مسلم، جنگ، ڈیلی نیوز، اسٹار اور فرنٹیئر پوسٹ سے وابستہ رہے۔
احمد بشیر کے خاکوں کا مجموعہ ’’جو ملے تھے راستے میں‘‘ اور سوانحی ناول ’’دل بھٹکے گا‘‘ کے نام سے اشاعت پذیر ہوا۔ اردو کی ممتاز افسانہ نگار نیلم احمد بشیر اور ٹیلی وژن کی معروف فنکارائیں بشریٰ انصاری، اسماء عباس اور سنبل ان کی صاحبزادیاں ہیں۔اس کے علاوہ احمد بشیر کی بہن پروین عاطف بھی افسانہ نگار تھیں۔
احمد بشیر کو حکومتِ پاکستان نے 14 اگست 1994ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔
۔۔۔ تحریر: طارق جمیل ۔۔۔






