> <

1959-03-23
2161 Views
استاد بندو خان پاکستان کے مشہور موسیقار اور سارنگی نوازاستاد بندو خان 1880ء میں دہلی میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد علی جان خان بھی سارنگی بجاتے تھے اور استاد ممّن خان، جنہوں نے سر ساگر ایجاد کیا ان کے ماموں تھے۔ استاد بندو خان نے سالہا سال اپنے ماموں سے سارنگی کے اسرار و رموز سیکھے پھر وہ ایک ملنگ میاں احمد شاہ کے شاگرد ہوئے جنہوں نے انتہائی شفقت اور محبت سے بندو خان کو اپنے علم کا سمندر منتقل کردیا۔ قیام پاکستان کے بعد بندو خان پاکستان چلے آئے اور ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہوگئے۔ ایک مختصر سی علالت کے بعد 13 جنوری 1955ء کو ان کا انتقال ہوگیا۔ انہیں ان کی وفات کے چار برس بعد23 مارچ 1959ء کومیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔ کراچی میں آسودہ خاک ہیں۔      
1965-08-14
2295 Views
    استاد محمد شریف خان پونچھ والے پاکستان کے نامور ستار نواز استاد محمد شریف خان، 1926ء میں ضلع حصار میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد استاد رحیم بخش مہاراجہ پونچھ کے موسیقی کے استاد تھے۔ ان کی زندگی کا ابتدائی زمانہ پونچھ میں گزرا اس لئے پونچھ سے ان کی نسبت ان کے نام کا حصہ بن گئی۔ استاد محمد شریف خان کو ابتدا ہی سے ستار بجانے کا شوق تھا۔ ان کے والد اور اساتذہ نے بھی انہیں موسیقی کی تعلیم دینے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ وہ ستار کے علاوہ وچتروینا بھی کمال مہارت پختگی کے ساتھ بجاتے تھے۔ انہوں نے کئی راگ بھی ایجاد کئے تھے۔ اسی باعث انہیں ’’استاد‘‘ کا مرتبہ حاصل تھا۔ 14 اگست 1965ء کو حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ استاد محمد شریف خان پونچھ والے 26 مئی 1980ء کو لاہور میںوفات پاگئے۔ وہ میانی صاحب کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔    
1980-08-14
2983 Views
 سہیل رعنا پاکستان کے مشہورموسیقار سہیل رعنا 1939 ء میں آگرہ میں پیدا ہوئے۔ان کے والد رعنا اکبر آبادی اور اور نانا صبا اکبر آبادی اپنے دور کے معروف شاعروں میں شمار ہوتے تھے۔ 1960ء کی دہائی میں انھوں پاکستان کی فلمی دنیا میں بطور موسیقار قدم رکھا اور دھوم مچادی۔ بطور موسیقار سہیل رعنا کی پہلی فلم ’’جب سے دیکھا ہے تمہیں‘‘ تھی ا س کے بعد انھوں نے وحید مراد، مسرور انور اور پرویز ملک کے اشتراک سے بننے والی کئی فلموں کی شاندار موسیقی ترتیب دی جن میں ہیرا اور پتھر ، ارمان ، احسان ، دوراہا اور سمندر کے نام شامل ہیں۔ 1967ء میںکراچی میں ٹیلی وژن کے قیام کے ساتھ سہیل رعنا نے بچوں کو موسیقی کی تربیت دینے کے لیے ایک ٹیلی وژن پروگرام شروع کیا جس کا نام کلیوں کی مالا تھا، یہ سلسلہ مختلف ناموں سے 1987 ء  تک چلتا رہا۔ اس پروگرام سے موسیقی کی تربیت حاصل کرنے والوں میں فاطمہ جعفری، نازیہ حسن، زوہیب حسن، عدنان سمیع خان اور افشاں احمد کے نام سرفہرست تھے۔ سہیل رعنا نے لاتعداد ملی نغموں کی دھنیں بھی ترتیب دیں جن میں سوہنی دھرتی، جیوے جیوے پاکستان اور ’’ہم مصطفوی مصطفوی مصطفوی ہیں‘‘ شامل ہیں۔ سہیل رعنا کو لاتعداد اعزازات سے نوازا گیا جن میں اقوام متحدہ کی جانب سے امن کا پیغامبر،  نگار ایوارڈ ، لائف اچیومنٹ ایوارڈ اور 14 اگست 1980ء کو دیا جانے والا صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سر فہرست ہیں۔
1989-08-14
2429 Views
بابا جی اے چشتی پاکستان کے نامور فلمی موسیقار بابا جی اے چشتی کا پورا نام غلام احمد چشتی تھا اور وہ 1905ء میں گانا چور ضلع جالندھر میں پیدا ہوئے تھے۔ بابا چشتی نے اپنی زندگی کا آغاز آغا حشر کاشمیری کے تھیٹر سے کیا۔ ان کی وفات کے بعد وہ ایک ریکارڈنگ کمپنی سے منسلک ہوگئے جہاں انہوں نے جدن بائی اور امیر بائی کرناٹکی کے چند ریکارڈ تیار کئے۔ بطور موسیقار ان کی پہلی فلم ’’دنیا‘‘ تھی جو 1936ء میں لاہور میں بنی تھی۔ بابا چشتی نے کچھ وقت کلکتہ اور بمبئی میں بھی گزارا۔ 1949ء میں جب وہ پاکستان آئے تو اس وقت تک وہ 17 فلموں کی موسیقی ترتیب دے چکے تھے جن میں فلم سوہنی مہینوال، شکریہ اور جگنو کے نام سرفہرست تھے۔ پاکستان میں بابا چشتی کی پہلی فلم ’’شاہدہ‘‘ تھی۔ یہاں انہوں نے مجموعی طور پر 152 فلموں کی موسیقی ترتیب دی ۔ ان کی مشہور فلموں میں پھیرے، مندری، لارے، گھبرو، بلو، سسی، پتن، نوکر، دلا بھٹی، لخت جگر، ماہی منڈا، مس 56، یکے والی، گمراہ، خیبر میل، مٹی دیاں مورتاں، سہتی، رانی خان، عجب خان، ڈاچی، چن مکھناں، ماں پتر، قادرا، چن پتر، بھائی چارہ، رب راکھا، غیرت تے قانون، چن تارا اور قاتل تے مفرور شامل ہیں۔ بابا چشتی نے جن گلوکاروں کو فلمی صنعت سے متعارف کروایا ان میں ملکہ ترنم نورجہاں، زبیدہ خانم، سلیم رضا، نسیم بیگم، نذیر بیگم، مالا، مسعود رانا اور پرویز مہدی کے نام شامل ہیں جبکہ ان کے شاگرد موسیقاروں میں رحمن ورما اور خیام کے نام سرفہرست ہیں۔ حکومت پاکستان نے بابا جی اے چشتی کو 14اگست1989ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا۔ بابا چشتی  25 دسمبر 1994ء کو لاہور میں وفات پاگئے۔ وہ لاہور میں قبرستان سوڈیوال، ملتان روڈ میں آسودہ خاک ہیں۔  
1989-08-14
2697 Views
استاد سلامت حسین پاکستان کے نامور بانسری نواز استاد سلامت حسین 10 اکتوبر 1937ء کو رام پور میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے خاندان کے کئی افراد موسیقی کے شعبے سے وابستہ تھے۔ استاد سلامت حسین نے اپنے ایک عزیز ماسٹر گچھن سے موسیقی کی تربیت حاصل کی جو استاد مشتاق حسین خان کے شاگرد اور استاد لطافت حسین خان کے بھائی تھے اور نواب رام پور کے دربار سے بطور کلارنٹ نواز وابستہ تھے۔ 1954ء میں استاد سلامت حسین پاکستان آگئے۔ یہاں انھوں نے مشہور ستار نواز استاد حامد حسین خان سے کلاسیکی موسیقی سیکھی۔ بانسری سے ان کاعشق جنون کی حد تک بڑھا ہوا تھا چنانچہ انھوں نے خود کو اس ساز سے وابستہ کردیا۔ وہ دیبو بھٹا چاریہ اور پنا لال گھوش سے شدید متاثر تھے۔ جلد ہی ان کی بانسری کی شہرت پھیلنے  لگی۔ ان کے قدردانوں میں وزیر اعظم سہروردی اور صدر ایوب خان بھی شامل تھے۔ اسی زمانے میں انھوں نے کئی فلمی نغمات میں بھی اپنی بانسری کا جادو جگایا۔ وہ ریڈیو پاکستان، پی آئی اے آرٹس اکیڈمی اور پی این سی اے سے بھی وابستہ رہے۔ 14 اگست 1989ء کو حکومت پاکستان نے انھیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا۔  
1994-08-14
2250 Views
نثار بزمی پاکستان کے نامور فلمی موسیقار نثار بزمی کا اصل نام سید نثار احمد تھا اور وہ یکم  دسمبر 1924ء کو صوبہ مہاراشٹر کے ضلع خان دیش کے صدر مقام جل گائوں میں پیدا ہوئے تھے۔ نثار بزمی کا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے تھا تاہم انہیں بچپن ہی سے موسیقی سے شغف تھا۔ جب ان کے ایک استاد نے ان کے والد سے ان کے اس شوق کے بارے میں بتایا تو ان کے والد نے انہیں موسیقی کی باقاعدہ تربیت حاصل کرنے کے لئے بمبئی بھیج دیا۔ نثار بزمی نے بمبئی میں استاد امان علی خان بھنڈی بازار والے سے موسیقی کی تربیت حاصل کی۔ ابتدا میں انہوں نے ریڈیو کے چند ڈراموں میں موسیقی دی جس کے بعد انہوں نے1946ء سے 1961ء تک بھارت کی متعدد فلموں میں موسیقی دینے کا اعزاز حاصل کیا۔ نثار بزمی 1962ء میں پاکستان آگئے جہاں انہیں فضل احمد کریم فضلی نے اپنی اردو فلم ’’ایسا بھی ہوتا ہے‘‘ کی موسیقی ترتیب دینے کے لئے کہا۔ نثار بزمی پاکستان میں اپنی اس پہلی فلم ہی سے صف اول کے موسیقاروں میں شامل ہوگئے۔ اس کے بعد نثار بزمی نے پاکستان کی لاتعداد فلموں کی موسیقی ترتیب دی جن میں ہیڈ کانسٹیبل، عادل، وقت کی پکار، حاتم طائی، آگ، لاکھوں میں ایک، صاعقہ، انجمن، تہذیب، محبت، آسرا، عندلیب، ناز، شمع اور پروانہ، ناگ منی، میری زندگی ہے نغمہ، آس، تلاش، ہم ایک ہیں، نغمات کی رات اور سونیا کے نام سرفہرست ہیں۔ نثار بزمی نے مجموعی طور پر 69 فلموں کی موسیقی ترتیب تھی جس میں ان کے کمپوز کئے گئے نغمات کی مجموعی تعداد 495 تھی۔ اداکار ندیم کو سب سے پہلے بطور گلوکار انہوں نے ہی اپنی ایک فلم میں متعارف کروایا تھا مگر یہ فلم نمائش پذیر نہیں ہوسکی تھی۔ انہوں نے طاہرہ سید، نیرہ نور، عالم گیر اور حمیرا چنا کو بھی پہلی مرتبہ اپنی ہی فلموں میں متعارف کروایا تھا۔ ان کی آخری فلم ’’ویری گڈ دنیا ویری بیڈ لوگ‘‘ تھی جو 2000ء میں نمائش پذیر ہوئی تھی۔ نثار بزمی کو حکومت پاکستان نے14 اگست 1994 ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ وہ ایک خوش گو شاعر بھی تھے اور ان کا شعری مجموعہ ’’پھر ساز صدا خاموش ہوا‘‘ بھی شائع ہوچکا ہے۔ نثار بزمی کا انتقال 23 مارچ 2007ء کو کراچی میں ہوا۔ وہ شمالی کراچی میں قبرستان محمد شاہ میں آسودہ خاک ہیں۔  
1995-08-14
2488 Views
 استاد طالب حسین خان پاکستان کے نامور طبلہ اور پکھاوج نواز استاد طالب حسین خان کا شمار پاکستان کے صف اول کے طبلہ اور پکھاوج نوازوں میں ہوتا ہے۔ انھوں نے اس فن کی تربیت اپنے ایک بزرگ بابا ملنگ خان سے حاصل کی جو تلونڈی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ بعد میں انھوں نے دلی گھرانے کے استاد گامی خان سے بھی کسب فیض کیا۔ 1993ء میں انہیں شدت پسندوں نے اس وقت قتل کردیا جب وہ ایک مسجد میں نماز ادا کر رہے تھے۔ 14 اگست  1995ء کو حکومت پاکستان نے انہیں بعد از مرگ صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔
1996-08-14
1941 Views
احمد علی غلام علی چاگلہ پاکستان کے ممتاز موسیقار اور پاکستان کے قومی ترانے کی دھن کے خالق جناب احمد علی غلام علی چاگلہ 31 مئی 1902ء کو کراچی میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے سندھ مدرسہ کراچی سے تعلیم حاصل کی اور کراچی کے نامور موسیقار مہاراج سوامی داس کے سامنے زانوئے تلمذتہ کیا۔ جناب احمد علی غلام علی چاگلہ نے انگلستان میں ٹرنٹی کالج آف میوزک سے بھی تعلیم حاصل کی۔ قیام پاکستان سے پہلے انہوں نے بمبئی میں ایک فلم کمپنی اجنتا میں بطور موسیقار کام کیا۔ پاکستان بننے کے بعد حکومت پاکستان نے انہیں قومی ترانے کی موسیقی تیار کرنے والی کمیٹی کا رکن مقرر کیا۔ مگر یہ دھن تیار کرنے کا اعزاز انہی کی قسمت میںلکھا تھا چنانچہ 21 اگست 1949ء کو حکومت نے ان کی تیار کردہ دھن کو پاکستان کے قومی ترانے کے طور پر منظور کرلیا۔ یہی وہ دھن تھی جسے بعد میں ابوالاثر حفیظ جالندھری نے الفاظ سے ہم آہنگ کیا۔ جناب احمد علی غلام علی چاگلہ 5 فروری 1953ء کو خالق حقیقی سے جاملے۔ ان کے انتقال کے 43 برس بعد14اگست 1996ء کو حکومت پاکستان نے انہیں بعدازمرگ صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی دینے کا اعلان کیاتھا۔
1997-08-14
2203 Views
میاں شہریار پاکستان کے معروف موسیقار میاں شہریار کا پورا نام محمد منیر عالم شہریار تھا اور وہ 5 مئی 1928ء کو لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے پنجابی ادب میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اور پھر کلاسیکی موسیقی کے اسرار و رموز سیکھنے کے لیے شام چوراسی گھرانے کے نامور موسیقار گائیک استاد نیاز حسین شامی کی شاگردی اختیار کی۔ ساتھ ہی ساتھ وہ بالواسطہ طور پر دہلی گھرانے کے گائیک استاد سردار خان اور فیروز نظامی سے بھی فیض یاب ہوتے رہے۔ میاں شہریار کے فنی کیریئر کا آغاز ریڈیو پاکستان لاہور سے 1948ء میں بطور گلوکار ہوا بعد میں انہوں نے طرز سازی کا شغل اختیار کیا اور ہزماسٹرز وائس میں بطور کمپوزر کام کرتے رہے۔ اسی ملازمت کے دوران انہوں نے 1958ء  میں فلم ’’بے گناہ‘‘ کی موسیقی ترتیب دی۔ بے گناہ کے بعد انہوں نے فلم ممتاز، دل کس کو دوں اور پنجابی فلم بی بی کی موسیقی ترتیب دی۔انہوں نے جن آوازوں کو فلمی دنیا سے متعارف کروایا ان میں نسیم بیگم اور تصور خانم کے نام سرفہرست تھے۔ میاں شہریار اس دوران ریڈیو پاکستان سے بھی نغمات کی موسیقی ترتیب دیتے رہے۔ 1963ء میں امریکی صدر جان ایف کینیڈی کے قتل پر پاکستان میں امریکی قونصلیٹ میں براس بینڈ پر ایک المیہ دھن تیار کی گئی تھی جو آج بھی امریکا کے مقتول صدر کے برسی پرہر سال بجائی جاتی ہے۔ یہ دھن میاں شہریار کی تخلیق تھی۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران مشہور جنگی ترانہ اے وطن کے سجیلے جوانو، انہی کی خوب صورت دھن میں ریکارڈ ہوا تھا۔ انہوں نے ایک طویل عرصہ تک پی ٹی وی کے متعدد پروگراموں کی بھی موسیقی بھی ترتیب دی جن میں دیس پردیس، گونج، جل ترنگ اور خوشبو کے نام سرفہرست ہیں۔ ان کا ایک کارنامہ قصیدہ بردہ شریف کو چار مختلف زبانوں میں ریکارڈ کرنا تھا۔ حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں 14 اگست 1997ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ میاں شہریار 10 جنوری 2011ء کو لاہور میں وفات پاگئے اور وہیں آسودہ خاک ہوئے۔
2007-08-14
1894 Views
مجاہد حسین پاکستان کے نامور موسیقار مجاہد حسین 21 اکتوبر 1951ء کو پیدا ہوئے۔ ان کے والد استاد نتھو خان اپنے وقت کے نامور سارنگی نواز تھے۔ حکومت پاکستان نے مجاہد حسین کو 14 اگست 2007 ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔  
UP