> <

پاک چین فضائی معاہدہ

پاک چین فضائی معاہدہ ٭1963ء میں جب ذوالفقار علی بھٹو‘ پاکستان کے وزیر خارجہ بنے تو پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک نمایاں تبدیلی عمل میں آئی اور وہ یہ کہ پاکستان نے امریکا کی بجائے بعض دوسری بڑی قوتوں سے جن میں عوامی جمہوریہ چین سرفہرست تھا‘ اپنے تعلقات بڑھانا شروع کیے۔ 1963ء میں جب بھارت اور چین کے درمیان جنگ چھڑی تو امریکا نے بھی بھارت کا بھرپور ساتھ دیا اور بھارت میں اسلحے کے انبار لگا دئیے۔ اس صورتحال کے باعث بھی‘ پاکستان کو دوسری عالمی قوتوں‘ خصوصاً چین سے تعلقات بہتر بنانا بہت ضروری تھے۔ چنانچہ 1963ء میں ایک جانب تو پاکستان نے عوامی جمہوریہ چین سے سرحدی سمجھوتہ کیا دوسری جانب 29 اگست 1963ء کو دونوں ممالک کے نمائندوں نے کراچی میں ایک فضائی معاہدے پر دستخط کیے۔ اس معاہدے کا مقصد دونوں ملکوں کی فضائی کمپنیوں کو ایک دوسرے کے علاقے کے اوپر پرواز کرنے کی اجازت دینے کے علاوہ پاکستان اور چین میں منتخب مقامات پر جہازوں کی بلا رکاوٹ پرواز کے لیے درکار تمام سہولتیں فراہم کرنا تھا۔ اس معاہدے پر پاکستان کی جانب سے وزارت دفاع کے جوائنٹ سیکرٹری حمید الدین نے اور چین کی جانب سے محکمہ شہری پرواز کے ڈپٹی ڈائریکٹر مسٹر شین تو نے دستخط کیے۔ الطاف گوہر نے اپنی کتاب ’’ایوب خان‘ فوجی راج کے پہلے دس سال‘‘ میں لکھا ہے۔ ’’بھارت اس معاہدے پر بوکھلا کر رہ گیا۔ نہرو نے کہا کہ ان کا ملک پاک چین فضائی معاہدے کے تحت چینی طیاروں کو بھارتی علاقے پر سے گزرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ امریکی حکومت نے ڈھاکا ائیرپورٹ کی توسیع کے لیے چار لاکھ ڈالر کے قرضے کے معاہدے کی توثیق کو ملتوی کردیا اور یوں پاک چین فضائی معاہدے پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ واشنگٹن میں اس معاہدے کو آزاد دنیا کے استحکام کے خلاف ایک سازش قرار دیا گیا۔ اس معاہدے کے ذریعے پاکستان نے وہ کام کر دکھایا تھا جس کا تصور بھی ممکن نہیں تھا۔ ایوب خان نے فضائی طور پر دنیا سے کٹے ہوئے چینیوں کے لیے دروازہ کھول دیا تھا۔‘‘ الطاف گوہر کے بقول ’’ایوب خان کا خیال تھا کہ چین کے ساتھ پاکستان کا معاہدہ ایک خالص تجارتی معاہدہ ہے اور اس میں کسی قسم کی سیاست کو گھسیٹنے کی ضرورت نہیں۔ یہ ایک غلط فہمی ہے کہ یہ معاہدہ چینیوں کو بیرونی دنیا کے ساتھ روابط فراہم کردے گا۔ اول یہ کہ آپ ستر کروڑ جواں ہمت چینیوں کو کب تک دنیا سے الگ تھلگ رکھ سکتے ہیں دوسرے یہ کہ برطانیہ اور بعض دوسرے ممالک چینیوں کے ساتھ ایسا ہی کوئی معاہدہ کرنے کے لیے بے چین ہیں۔ ہم امریکی مفادات کو نقصان پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے اس کے برعکس اگر کسی مرحلے پر امریکا کی خواہش ہو تو ہم چین سے اس کی مفاہمت میں کسی حد تک مددگار بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔‘‘

UP