> <

پاکستان کا قیام

پاکستان کا قیام ٭ 14اور15اگست 1947ء کی درمیانی شب مطابق 27 رمضان المبارک 1366 ھ رات ٹھیک بارہ بجے ،دنیا کے نقشے پر ایک آزاد اور خود مختار اور دنیائے اسلام کی سب سے بڑی مملکت کا اضافہ ہوا جس کا نام پاکستان ہے۔ اس سے قبل جمعرات 14 اگست 1947ء کو صبح 9 بجے دستور ساز اسمبلی کے ایک خصوصی اجلاس میں ہندوستان کے آخری وائسرائے لارڈ مائونٹ بیٹن نے پاکستان کی آزادی اور اقتدار کی منتقلی کا اعلان کیا۔ صبح سے ہی عمارت کے سامنے پرجوش عوام جمع تھے۔جب پاکستان کے نامزد گورنر جنرل قائد اعظم محمد علی جناح اورلارڈ مائونٹ بیٹن ایک مخصوص بگھی میں سوار اسمبلی ہال پہنچے تو عوام نے پرجوش نعروں اور تالیوں سے ان کا استقبال کیا۔ اسمبلی کی تمام نشستیں پر تھیں۔ گیلری میں ممتاز شہریوں‘ سیاست دانوں اور ملکی اور غیر ملکی اخباری نمائندوں کی بھاری تعداد موجود تھی۔  کرسیٔ صدارت پر دستور ساز اسمبلی کے صدر قائد اعظم محمد علی جناح تشریف فرما تھے اور ان کے برابر میں لارڈ مائونٹ بیٹن کی نشست تھی۔ دونوں اکابر نے جب اپنی اپنی نشستیں سنبھالیں تو کارروائی کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔ سب سے پہلے لارڈ مائونٹ بیٹن نے شاہ انگلستان کا پیغام پڑھ کر سنایا جس میں قائد اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا تھا : ’’برطانوی دولت مشترکہ کی اقوام کی صف میں شامل ہونے والی نئی ریاست کے قیام کے عظیم موقع پر میں آپ کو دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ آپ نے جس طرح آزادی حاصل کی ہے وہ ساری دنیا کے حریت پسند عوام کے لیے ایک مثال ہے۔ میں توقع رکھتا ہوں کہ برطانوی دولت مشترکہ کے تمام ارکان جمہوری اصولوں کو سربلند رکھنے میں آپ کا ساتھ دیں گے۔‘‘ اس پیغام کے بعد لارڈ مائونٹ بیٹن نے الوداعی تقریر کی اور پاکستان اور پاکستانی عوام کی سلامتی کے لیے دعا مانگی ۔ لارڈ مائونٹ بیٹن کے بعد قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی تقریر کا آغاز کیا۔ انہوں نے سب سے پہلے شاہ انگلستان اور وائسرائے کا شکریہ ادا کیا اور انہیں یقین دلایا کہ’’ہمارا ہمسایوں سے بہتر اور دوستانہ تعلقات کا جذبہ کبھی کم نہ ہوگا اور ہم ساری دنیا کے دوست رہیں گے۔‘‘ اسمبلی کی کارروائی اور اعلان آزادی کے بعد قائد اعظم محمد علی جناح‘ لارڈ مائونٹ بیٹن کے ہمراہ شاہی بگھی میں گورنر جنرل ہائوس واپس ہوئے۔ دوپہر دو بجے لارڈ مائونٹ بیٹن‘ نئی دہلی روانہ ہوگئے جہاںاسی رات12بجے بھارت کی آزادی کے اعلان کے ساتھ انہیں بھارت کے گورنر جنرل کا منصب سنبھالنا تھا۔        

UP