> <

نذیر عباسی کی شہادت

نذیر عباسی ٭30 جولائی 1980ء کو کراچی کے ایک مکان پر چھاپہ مار کر کمیونسٹ پارٹی کے چھ رہنمائوں پروفیسر جمال نقوی، احمد کمال وارثی، غلام شبیر شر، بدر ابڑو، سہیل سانگی اور نذیر عباسی کو گرفتار کرلیا گیا۔ ان افراد پر الزام تھا کہ وہ ملک کے خلاف تخریبی لٹریچر چھاپ کر تقسیم کررہے ہیں۔ ان افراد کو خفیہ فوجی ٹارچر سیلوں میں شدید ذہن و جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کی تاب نہ لاتے ہوئے 9 اگست 1980ء کو نذیر عباسی شہید ہوگئے۔ نذیر عباسی 1950ء میں ٹنڈوالٰہ یار کے ایک عرائض نویس جان محمد عباسی کے ہاں پیدا ہوئے تھے۔ یحییٰ خان کے دور حکومت میں وہ طلبہ تنظیم نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے رکن کی حیثیت سے گرفتار ہوئے، جیل میں ان کی ملاقات ڈاکٹر اعزاز نذیر سے ہوئی جن کی تربیت کے نتیجے میں وہ کمیونسٹ پارٹی کی جانب راغب ہوئے اور رہائی کے بعد اس تنظیم کے فعال رکن بن گئے۔ بھٹو کے دور حکومت میں انہوں نے کئی مرتبہ قید و بند کی صعوبت برداشت کی۔ 1978ء میں جام ساقی کی گرفتاری کے بعد انہوں نے کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان میں زیادہ فعال کردار ادا کرنا شروع کردیا۔ 30جولائی 1980ء کو جب انہیں ان کے ساتھیوں سمیت گرفتار کیا گیا تو ان پر بے پناہ تشدد کے ذریعہ ان سے پارٹی کے پورے سلسلہ عمل کی تفصیلات جاننے کی کوشش کی گئی مگر نذیر عباسی نے اپنی زبان سختی سے بند رکھی۔ اس تشدد کے نتیجے میں 9 اگست 1980ء کو وہ جان کی بازی ہار بیٹھے۔ نذیر عباسی کی شہادت کے بعد29 اگست 1980ء کو حکومت نے ان کی اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری کا اعلان کیا اور کہاکہ یہ افراد ملک دشمن افراد کا خفیہ سیل چلا رہے تھے۔ یہ حکومتی تشدد کی انتہا تھی کیونکہ اس وقت تک نذیر عباسی کو اپنی جان سے گزرے 20 دن گزر چکے تھے۔

UP