> <

لاہور کا قدیم ترین اخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ بند کردیا گیا

 سول اینڈ ملٹری گزٹ ٭3 ستمبر 1963ء کولاہور سے شائع ہونے والا ایک قدیم اور تاریخی اخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ کی اشاعت اختتام پذیر ہوئی۔ یہ اخبار 1870ء میں مفصلات (آگرہ)‘ لاہور کرانیکل اور انڈین پبلک اوپینین کو ملا کر شملہ سے جاری کیا گیا تھا۔ چار سال بعد اسے لاہور منتقل کردیا گیا جہاں سے یہ تقریباً 89 برس تک نکلتا رہا۔ سول اینڈ ملٹری گزٹ کی صحافتی حیثیت بہت بلند تھی۔ اس اخبار میں خبروں کی فراہمی اور ان کو شائع کیے جانے کا طریقہ بہت عمدہ تھا۔ اس کی مجلس ادارت میں ہمیشہ بلند پایہ صحافی شامل رہے جن میں نوبیل انعام یافتہ ادیب رڈیارڈ کپلنگ کا نام سرفہرست تھا۔ قیام پاکستان کے وقت اس کے مدیر ایف ڈبلیو بسٹن تھے جو اس اخبار کے آخری انگریز سربراہ تھے۔ 1949ء میں کشمیر کے حوالے سے ایک خبر کی اشاعت کے باعث سول اینڈ ملٹری گزٹ کو تین ماہ کی جبری بندش کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بعد یہ پرچہ نکلا مگر پھر اپنی پہلی جیسی شان و شوکت برقرار نہ رکھ سکا۔ 1956ء میں اس اخبار کے اکثریتی شیئرز ایک پاکستانی صنعت کار نصیر اے شیخ نے خرید لیے۔ ان کے بقول انہوں نے اس اخبار کو سنبھالا دینے کی بہت کوشش کی مگر یہ اخبار اپنے وہ کھوئے ہوئے قارئین‘ جو پاکستان ٹائمز کے پاس چلے گئے تھے‘ پھر کبھی حاصل نہ کرسکا اور 2 ستمبر 1963ء کو جب حکومت نے ویسٹ پاکستان پریس اینڈ پبلی کیشنز آرڈیننس جاری کیا تھا تو اگلے ہی روز‘ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دم توڑ گیا۔ نصیر اے شیخ کا کہنا ہے کہ وہ ایوب خان کی جابرانہ اور صحافت کش پالیسیوں سے اتفاق نہیں کرسکتے تھے اور ان کی یہی آزاد روی‘ اخبار کے خاتمے کا باعث بنی جب کہ اس اخبار کے سابق اسسٹنٹ ایڈیٹر جی اثر کے مطابق ‘ نصیر اے شیخ نے اس اخبار کو اس کی عمارت پر قبضہ کرنے کے لیے خریدا تھا جس کی ملکیت کروڑوں روپے تھی (اس عمارت کی جگہ پر آج کل لاہور کا پینوراما شاپنگ سینٹر ایستادہ ہے) ایک مشہور صحافی حسن عابدی کی روایت کے مطابق 1969ء میں لاہور کے ایک دورے میں انہوں نے اس بلڈنگ کو گرائے جانے کا منظر دیکھا تاکہ اس کی جگہ ایک شاپنگ پلازا تعمیر کیا جاسکے۔ گدھا گاڑی پر لادے جاتے ہوئے ملبے میں انہیں رڈیارڈ کپلنگ کے نام کی تختی دکھائی دی۔ کانسی کی یہ تختی نیوز ڈپارٹمنٹ میں لگی ہوئی تھی اور اس پر لکھا تھا۔ ’’یہاں رڈ یارڈ کپلنگ کام کرتا تھا… (1882ء ۔ 1887ء)‘‘ گزٹ کے دور عروج میں کپلنگ کے نام کی اس تختی کی تصویر اتارنے کی اجازت کی درخواستیں آیا کرتی تھیں۔  

UP