پھیرے ریلیز ہوئی

پھیرے ٭28جولائی 1949ء کو عیدالفطر کے موقع پر لاہور کے پیلس سینما میں پاکستان کی پہلی پنجابی فلم ’’پھیرے‘‘ ریلیز ہوئی۔ اس فلم کے فلم ساز نذیر‘ ہدایت کار مجید‘ موسیقار جی اے چشتی ‘ مکالمے اور نغمہ نگار بابا عالم سیاہ پوش اور جی اے چشتی ،عکاس بھائیا حمید اور مصنفہ رانی ممتاز تھیں۔ یہ فلم صرف دو ماہ کے دورانیہ میں مکمل ہوئی اور موسیقار جی اے چشتی نے اس کے تمام نغمے صرف ایک دن میں ریکارڈ کیے جو تمام کے تمام بے حد مقبول ہوئے۔ پھیرے 1945ء میں بننے والی نذیر کی اردو فلم ’’گائوں کی گوری‘‘ کا ری میک تھی۔پھیرے میں اداکار نذیر اور ان کی بیوی سورن لتا نے مرکزی کردار ادا کیے تھے جب کہ دیگر اداکاروں میں ایم اسماعیل‘ زینت‘ مایا دیوی‘ نذر‘ باباعالم سیاہ پوش اور علائو الدین شامل تھے۔ اس فلم نے لاہورمیں سلورجوبلی منائی اور یوں پاکستان کی ڈگمگاتی فلمی صنعت کو سہارا دیا۔ کراچی میں یہ فلم تاج محل سینما میں 7 اپریل 1950ء کو ریلیز ہوئی جہاں اس نے پانچ ہفتے مکمل کیے۔پھیرے کی بے مثال کامیابی کے بعد پاکستان میں پنجابی فلموں کا راستہ ہموار ہوگیا اور ایک وقت ایسا بھی آیا جب اردو زبان سے زیادہ پنجابی زبان میں فلمیں بنائی جانے لگیں۔

UP