علامہ محمد اسد کی وفات

علامہ محمد اسد ٭20 فروری 1992ء کو ممتاز نو مسلم مفکر، مصنف، مبلغ، مترجم اور صحافی علامہ محمد اسد اسپین کے شہر ماربیا میں انتقال کرگئے۔ علامہ محمد اسد کا اصل نام لیوپولڈویس (Leopold Weiss)تھا اور وہ 2 جولائی 1900ء کو پولینڈ کے شہر لواو میں ایک یہودی ربی گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ خاندانی روایت کے مطابق انہوں نے بچپن میں عبرانی اور آرامی زبانیں سیکھیں اور تلمود اور بائبل جیسی مذہبی کتابوں کا مطالعہ کیا۔ 1926ء میں انہوں نے اسلام قبول کیا اور تقریباً 6 برس تک مدینہ منورہ اور سعودی عرب کے دیگر شہروں میں قیام اختیار کیا جہاں انہیں سلطان سعود کا تقرب حاصل ہوا۔ پھر وہ برصغیر آگئے جہاں انہیں علامہ اقبال کی صحبتوں سے استفادے کا موقع ملا بعدازاں انہوں نے کچھ وقت مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کے دارالاسلام (پٹھان کوٹ) میں گزارا۔ قیام پاکستان کے بعد انہیں حکومت کے ایک محکمے اسلامی تعمیر نو کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا جہاں انہوں نے دستور پاکستان کا ایک خاکہ مرتب کرکے حکومت کو پیش کیا۔ بعدازاں ان کی تقرری وزارت خارجہ میں محکمہ مشرق وسطیٰ کے افسر اعلیٰ کی حیثیت سے ہوئی۔ آخر میں وہ اقوام متحدہ میں پاکستانی وفد میں بھی شامل ہوئے۔ اس کے بعد وہ پاکستان کی وزارت خارجہ سے مستعفی ہوکر مراکش چلے گئے جہاں انہوں نے خود کوتصنیف و تالیف کے لئے وقف کردیا۔ انہوں نے قرآن مجید کا انگریزی میں ترجمہ کیا۔ وہ صحیح بخاری کی منتخب احادیث کو بھی انگریزی میں منتقل کررہے تھے کہ مگر عمر نے وفا نہ کی۔ ان کی مشہور تصانیف میں Islam at Crossroad اور The Road to Meccaکے نام شامل ہیں۔ علامہ محمد اسد غرناطہ (اسپین) کے مسلم قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔  

UP