معین قریشی نگراں وزیراعظم بنے

معین قریشی ٭18 جولائی 1993ء کو ڈاکٹر معین قریشی نے ایوان صدر اسلام آباد میں پاکستان کے سولہویں وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھالیا۔ ان سے یہ حلف صدر غلام اسحاق خان نے لیا۔ معین قریشی اس سے قبل امریکا میں مقیم تھے اور پاکستان کی وزارت عظمیٰ کا قلمدان سنبھالنے کے لئے اسی دن سنگاپور سے پاکستان پہنچے تھے۔ اس تقریب کے بعد صدر غلام اسحاق خان نے عہدہ صدارت سے الگ ہونے کی دستاویز پر دستخط کئے اور اس کے ساتھ ہی سینیٹ کے چیئرمین وسیم سجاد نے قائم مقام صدر کا عہدہ سنبھال لیا۔ معین قریشی کے نگراں وزیراعظم بنتے ہی پورے ملک میں ان کے متعلق قیاس آرائیاں شروع ہوگئیں۔ بعض لوگوں نے کہاکہ انہیں واشنگٹن نے ہم پر مسلط کیا ہے۔ قاضی حسین احمد نے ان پر ’’امپورٹڈ پرائم منسٹر‘‘ کی بھپتی کسی، کسی نے کہاکہ سی آئی اے نے انہیں ایک خفیہ مشن دے کر بھیجا ہے اور وہ تین ماہ کے اندر اپنا مشن مکمل کرکے رخصت ہوجائیں گے۔ مگر معین قریشی جنہیں ’’شفاف‘‘ انتخابات منعقد کروانے کے لئے بلایا گیا تھا ان تمام الزامات کے باوجود کام کرتے رہے اور 20 اکتوبر 1993ء کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات منعقد کرواکر باعزت طور پر رخصت ہوگئے۔

UP