شاہنواز بھٹو کی پراسرار موت

شاہنواز بھٹو ٭18جولائی 1985ء کو پاکستان کے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے چھوٹے صاحبزادے شاہنواز بھٹو فرانس کے شہر کینز میں اپنے فلیٹ میں مردہ پائے گئے۔ شاہنواز بھٹو کی عمر 27 سال تھی اور وہ ستمبر 1977ء میں اپنے والد کی گرفتاری کے بعد اپنے والد کی ہدایت پر لندن چلے گئے تھے۔ انہوں نے اپنے والد کی پھانسی کے بعد اپنے بھائی میر مرتضیٰ بھٹو کے ساتھ مبینہ طور پر ایک دہشت گرد تنظیم ’’الذوالفقار‘‘ کی بنیاد رکھی تھی۔ شاہنواز بھٹو اور میر مرتضیٰ بھٹو نے جلاوطنی کے ہی زمانے میں اکتوبر 1981ء افغان وزارت خارجہ کے ایک اعلیٰ افسر فصیح الدین کی بیٹیوں ریحانہ اور فوزیہ سے شادی کی تھی۔ ان دونوں بھائیوں کے یہاں ایک ایک بیٹی نے بھی جنم لیا۔ جن کے نام بالترتیب سسی اور فاطمہ رکھے گئے تھے۔ شاہنواز بھٹو اپنی اہلیہ ریحانہ کے ہمراہ فرانس کے ساحلی شہر کینز میں ایک خوبصورت فلیٹ میں مقیم تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کے اپنی بیوی سے تعلقات کشیدہ تھے۔ 18 جولائی 1985ء کی شام وہ اپنے فلیٹ میں مردہ پائے گئے۔ ان کا انتقال ایک سریع الاثر زہر کے استعمال سے ہوا جسے وہ ہمیشہ اپنے پاس رکھا کرتے تھے۔ شاہنواز بھٹو کی لاش کو فرانسیسی حکام نے اپنی تحویل میں لے لیا اور کوئی ایک ماہ بعد ان کے ورثا کے حوالے کیا۔ 21 اگست 1985ء کو محترمہ بے نظیر بھٹو اپنے بھائی کی میت لے کر پاکستان آئیں جہاں شاہنواز بھٹو کو ان کے والد کے پہلو میں دفن کردیا گیا۔ فرانسیسی حکام نے شاہنواز بھٹو کے مبینہ قتل کے الزام میں ان کی اہلیہ ریحانہ کو حراست میں لے لیا۔ مگر وہ اور ان کے وکلا یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوگئے کہ شاہنواز کو قتل نہیں کیا گیا بلکہ انہوں نے خودکشی کی ہے۔ دوسری جانب بے نظیر بھٹو کا اصرار تھا کہ شاہنواز خودکشی کرہی نہیں سکتے، انہیں زہر دے کر قتل کیا گیا ہے۔ بے نظیر بھٹو کا دعویٰ تھا کہ ان کے بھائی کو یہ زہر یا تو ریحانہ نے دیا تھا یا پھر یہ شاہنواز کے ہاتھوں تنگ آئے ہوئے پاکستان کے فوجی آمر کے گماشتوں کی حرکت تھی۔

UP