> <

الخالد ٹینک کی تیاری

الخالد ٹینک ٭17 جولائی 1991ء کو پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل مرزا اسلم بیگ نے ٹیکسلا میں ہیوی ری بلڈ فیکٹری میں چین کے اشتراک سے بنائے گئے جدید ٹی 90 ٹینک کی تقریب رونمائی انجام دی۔ اس ٹینک کو اسلام کے عظیم سپہ سالار حضرت خالد بن ولیدؓ کے نام کی نسبت سے ’’الخالد‘‘ کا نام دیا گیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہاکہ اس جدید ٹینک کی تیاری خود انحصاری کی طرف بڑا قدم ہے۔ جنرل مرزا اسلم بیگ نے اپنے خطاب میں کہاکہ تاریخ میں پہلی مرتبہ نہ صرف پاکستان کو ٹیکنالوجی منتقل ہوئی ہے بلکہ پاکستانی انجینئروں نے ٹینک خود ڈیزائن کیا ہے۔ ’’الخالد‘‘ 48 ٹن وزنی ٹینک ہے جس میں 12 سو ہارس پاور کا انجن لگا ہوا ہے۔ یہ ٹینک دنیا کے بہترین اور جدید ترین ٹینکوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس میں 125 ملی میٹر کی توپ لگی ہوئی ہے جو دو کلو میٹر کے فاصلے پر حرکت کرتی ہوئی چیزوں کو نشانہ بناسکتی ہے۔ ٹینک میں طیارہ شکن توپ بھی موجود ہے اور اس کے گولہ پھینکنے کی رفتار دنیا کے کسی بھی ٹینک سے زیادہ ہے۔  الخالد کے 65 فیصد پرزے ملک میں اور 25 فیصد چین میں تیار کئے گئے تھے جبکہ 10 فیصد پرزے دوسرے ممالک سے منگوائے گئے تھے۔ الخالد پر 15لاکھ ڈالر لاگت آئی جبکہ مغربی ممالک میں اس قسم کے ٹینک کی لاگت 50 لاکھ ڈالر ہے۔ اس منصوبے پر کام کا آغاز 1988ء میں ہوا تھا اور یہ منصوبہ تین سال کی مختصر مدت میں پایہ تکمیل کو پہنچا۔

UP