> <

عقیل عباس جعفری کی پیدائش

عقیل عباس جعفری پاکستان کے معروف ادیب، شاعر، محقق، دانشور، مورخ، پاکستان کرونیکلز کے مصنف عقیل عباس جعفری 10 اگست 1957ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ عقیل عباس جعفری کا نام تحقیق کے شعبے میں نیا نہیں۔ انہوں نے ابتدا معلومات عامہ کے شعبے سے کی اور اس حوالے سے کئی کتابیں تحریر کیں جن میں 366دن، صفر سے 100 تک، جہان معلومات، ہے حقیقت کچھ، ایک سال پچاس سوال، کون بنے گا کروڑ پتی اور قائداعظم معلومات کے آئینے میں شامل ہیں۔ ’’پاکستان کے سیاسی وڈیرے‘‘ سیاست کے موضوع پر ان کی پہلی کتاب تھی جس نے شائع ہوتے ہی تہلکہ مچا دیا۔ یہی وہ کتاب تھی جس نے سیاست کی دنیا میں ’’سیاسی وڈیرے‘‘ کی اصطلاح کو متعارف کروایا۔ ’’پاکستان کے سیاسی وڈیرے‘‘ کے علاوہ عقیل عباس جعفری نے سیاست ہی کے موضوع پر کئی اور کتابیں بھی لکھیں جن میں پاکستان کی ناکام سازشیں، پاکستان کی انتخابی سیاست، قائداعظم کی ازدواجی زندگی، لیاقت علی خان قتل کیس اور پاکستان کا قومی ترانہ: کیا ہے حقیقت، کیا ہے فسانہ؟ شامل ہیں۔ انہوں نے موسیقی کے موضوع پر لکھے گئے شاہد احمد دہلوی کے نادر و نایاب مضامین کو بھی ’’مضامین موسیقی‘‘ کے نام سے مدون کیا ہے۔ عقیل عباس جعفری نے ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی ویژن کے لاتعداد پروگرامز کے اسکرپٹس بھی تحریر کئے جن میں سات دن، ٹی وی انسائیکلوپیڈیا، ٹیلی شو، ہم مصطفوی، یہ تو مجھے پتا ہے، یونیورسٹی چیلنج، جہاںنما، ایک سال پچاس سوال، سارک کوئز، ملینیم کوئز، یو. این کوئزجو جانے وہ جیتے، ہم کسی سے کم نہیں، بیسویں صدی، سال بہ سال اور رات گئے کے نام سر فہرست ہیں۔ انہوں نے اے آر وائی کے پروگرام ’’کیا آپ بنیں گے کروڑ پتی؟‘‘ اور جیو ٹیلی ویژن کے پروگرام ’’یہ گھر آپ کا ہوا‘‘ کے سوالات بھی مرتب کئے۔ عقیل عباس جعفری کا شمار اپنی نسل کے نمائندہ شعرأ میں ہوتا ہے۔ ان کی تخلیقات ادب کے معتبر جرائد میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ وہ 2000ء میں ریڈیو پاکستان کا ’’بہترین نعت گو‘‘ اور’’ بہترین قومی نغمہ نگار‘‘ کا ایوارڈ بھی حاصل کر چکے ہیں۔ وہ بین الاقوامی مشاعروں اور سیمینارز میں شرکت کے لیے امریکا، کینیڈا، برطانیہ، عوامی جمہوریہ چین، بھارت اور متحدہ عرب امارات کے سفر بھی کر چکے ہیں۔ ان کی غزلیہ شاعری کا مجموعہ ’’راستا‘‘ کے نام سے اور مذہبی شاعری کا مجموعہ ’’تروتازہ‘‘ کے نام سے زیر اشاعت ہے۔ ’’پاکستان کرونیکل‘‘ عقیل عباس جعفری کی بیس سالہ محنت کا ثمر ہے۔ یہ کتاب اس طرز پر شائع ہونے والے بین الاقوامی کرونیکلز کے معیارات کو سامنے رکھتے ہوئے تالیف کی گئی ہے اور اس میں پاکستان کی تاریخ کا ایک ایک لمحہ محفوظ کر دیا گیا ہے۔ تحقیق اور پاکستانیات کے شعبے میں ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر پاکستان کوئز سوسائٹی نے انہیں 2004ء میں کوئز ایکسیلینس ایوارڈ، وزڈم پاکستان فورم نے 2010ء میں ہیروز آف پاکستان کمال کارکردگی ایوارڈ اور سینٹر آف سوک ایجوکیشن پاکستان نے 2010ء کا سوک ایجوکیشن ایوارڈ عطا کیا۔  

UP