فلمی صنعت کے لیے صدارتی ایوارڈز تقسیم ہوئے

 صدارتی ایوارڈز ٭27 مئی 1961ء کو لاہور کے باغ جناح میں منعقد ہونے والی ایک رنگا رنگ تقریب میں پاکستانی فلموں کو مختلف شعبوں میں صدارتی ایوارڈز تقسیم کیے گئے۔ اس تقریب کی صدارت صدر پاکستان فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کو کرنی تھی مگر ان کی مصروفیات کی وجہ سے یہ فریضہ وفاقی وزیر اطلاعات اور تعمیر نو جناب حبیب الرحمن نے ادا کیا۔ یہ صدارتی ایوارڈز 1960ء میں ریلیز ہونے والی فلموں پر پیش کیے گئے۔اس ایوارڈ کے لیے منصفین کے سامنے مجموعی طور پر 37 فلمیں پیش ہوئیں جن میں 31 فیچر فلمیں اور 6 دستاویزی فلمیں شامل تھیں۔ ابتدا میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ یہ ایوارڈز مجموعی طور پر 18 شعبوں میں تقسیم کیے جائیں گے مگر 6 شعبوں (بہترین دستاویزی فلم، بہترین نغمہ، صدابندی، پروسیسنگ، تدوین اور آرٹ ڈائریکشن) کے معیار پر کوئی فلم پوری نہیں اتری چنانچہ 18 شعبوں کی بجائے صرف 12 شعبوں میں صدارتی ایوارڈز تقسیم کیے جاسکے۔ ان  ایوارڈز کی تفصیل حسب ذیل تھی: بہترین فلم: سہیلی (فلم ساز ایس ایم یوسف اور ایف ایم سردار)، بہترین ہدایت کار: ایس ایم یوسف (فلم سہیلی)، بہترین کہانی نگار: دانش دیروی (فلم اور بھی غم ہیں)، بہترین مکالمہ نگار: شاطر غزنوی (فلم بھابی)، بہترین اداکار: ظریف (فلم بہروپیا)، بہترین اداکارہ: شمیم آراء (فلم سہیلی)، بہترین معاون اداکار: طالش (فلم سہیلی)، بہترین معاون ادکارہ: نیر سلطانہ (فلم سہیلی)، بہترین موسیقار: تصدق حسین (فلم: روپ متی باز بہادر)، بہترین گلوکار یا گلوکارہ: روشن آرا بیگم (فلم: روپ متی باز بہادر)، بہترین عکاس: نبی احمد (فلم: ایاز)اور بہترین بنگالی فلم: آسیہ۔فلم ’’سہیلی‘‘ پانچ شعبوں میں صدارتی ایوارڈ حاصل کرکے سرفہرست رہی۔ بدقسمتی سے آئندہ برسوں میں فلم کے شعبے میں دیئے جانے والے صدارتی ایوارڈز کا یہ سلسلہ جاری نہ رہ سکا اور یوں یہ ایوارڈز صرف ایک مرتبہ تقسیم ہوسکے۔  

UP