> <

شریعت بل کی منظوری

شریعت بل ٭پاکستان کے عوام ایک طویل عرصہ سے شریعت کے نفاذ کے منتظر ہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لئے قومی اسمبلی میں متعدد بار شریعت بل پیش ہوا مگروہ کسی نہ کسی وجہ سے منظوری کے مراحل سے نہ گزر سکا۔ 11 اپریل 1991ء کو وزیر مملکت برائے قانون چوہدری امیر حسین نے قومی اسمبلی میں شریعت بل پیش کیا جسے بغیر کسی بحث کے گیارہ رکنی کمیٹی کے سپرد کردیاگیا جو 30 دن کے اندر اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ بے نظیر کے سابقہ دور میں سینیٹ پہلے ہی ایک شریعت بل کی منظوری دے چکی تھی جہاں اس وقت اسلامی جمہوری اتحاد کو اکثریت حاصل تھی۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اسی بل کو اب قومی اسمبلی کے سامنے پیش کردیا جاتا جہاں اب آئی جے آئی اکثریت میں تھی مگر حکومت نے یہ سیدھا راستہ اختیار کرنے کی بجائے قومی اسمبلی میں ایک نیا بل پیش کردیا جس میں نہ صرف یہ کہ پرانے بل کی متعدد دفعات شامل نہیں تھیں بلکہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو بھی شامل نہیں کیا گیا تھا۔ 23 اپریل 1991ء کو لاہور میں ملک کی تمام دینی جماعتوں کا ایک نمائندہ اجتماع منعقد ہوا۔ جس میں اس نئے سرکاری بل کو متفقہ طور پر مسترد کردیا گیا۔ ان دینی جماعتوں میں بعض ایسی جماعتیں بھی شامل تھیں جو آئی جے آئی کا حصہ تھیں۔ پی ڈی اے کے ارکان پہلے ہی اس بل کے خلاف تھے۔ مگر حکومت پر ان مخالفتوں کا کوئی اثر نہ ہوا اور اس نے اس بل کی منظوری کو اپنے وقار کا مسئلہ بنالیا۔ 16مئی 1991ء کو یہ شریعت بل قومی اسمبلی میں منظوری کے لئے پیش ہوا جسے ایوان میں موجود ارکان کی اکثریت نے منظور کرلیا۔قومی اسمبلی میں منظوری کے بعد اس بل کو سینیٹ میں منظوری کے لئے پیش کیا گیا۔ سینیٹ میں وزیراعظم نواز شریف نے یقین دلایا کہ اگر موجود شریعت بل کو اسی صورت میں منظور کرلیا گیا تو وہ وعدہ کرتے ہیں کہ اس کی خامیوں کو ایک دوسرے ترمیمی بل کے ذریعے دور کردیا جائے گا۔ ان کی اس یقین دہانی پر جماعت اسلامی اور عوامی نیشنل پارٹی نے بھی اس بل کی حمایت میں ووٹ دے دیا یوں 28 مئی 1991ء کو یہ بل سینیٹ سے بھی منظور ہوگیا۔مگر میاں نواز شریف اپنا وعدہ ایفا نہیں کرسکے جس کی بنا پر بل کی حمایت کرنے والی جماعتیں بالخصوص جماعت اسلامی طویل عرصہ تک پارلیمنٹ ہی میں نہیں ملک بھر میں شدید تنقید کا نشانہ بنتی رہیں۔ یہ پاکستان کے آئین میںکی جانے والی 11 ویں ترمیم تھی۔

UP