> <

نمایاں شہری اور فوجی خدمات کے لئے تمغوں کا اعلان

 شہری اور فوجی خدمات ٭3 مئی 1956ء کو صدر پاکستان نے نمایاں شہری اور فوجی خدمات کے اعتراف کے لئے مختلف تمغے قائم کرنے کا اعلان کیا۔ اس اعلان میں کہا گیا کہ ملک کا سب سے بڑا انعام فوج کا جنگی تمغہ ہوگا جس کا نام نشان حیدر ہوگا۔ یہ تمغہ مسلح افواج کے اس فردکو دیا جائے گا جس نے ملک کی حفاظت اور سلامتی کے لئے زبردست خطرات کا سامنا کرتے ہوئے بے حد بہادری اور زبردست ہمت کا مظاہرہ کیا ہو۔ اسی اعلامیے میں پاکستان کے شہریوں کے لئے بھی قومی اعزازات کے پانچ آرڈرز کے قیام کا اعلان بھی کیا گیا۔ جن کے نام آرڈر آف پاکستان‘ آرڈر آف شجاعت‘ آرڈر آف امتیاز‘ آرڈر آف قائداعظم اور آرڈر آف خدمت تھے۔ یہ بھی اعلان کیا گیا کہ ہر آرڈر تمغوں کے چار چار سلسلوں پر مشتمل ہوگا۔ جو نشان‘ ہلال‘ ستارہ اور تمغہ کہلائیں گے۔ اسی اعلامیہ میں آرڈر آف جرأت کے قیام کا اعلان بھی کیاگیا۔ بتایا گیا کہ آرڈر آف جرأت تین تمغوں پرمشتمل ہوگا جو ہلال جرأت‘ ستارہ جرأت اورتمغہ جرأت کہلائیں گے یہ تینوں تمغے صرف مسلح افواج کے ارکان کو دیئے جاسکیں گے۔ ہلال جرأت کا مقام فوجی تمغوں میں نشان حیدر کے بعد اور مجموعی تمغوں میں ہلال پاکستان کے بعد ہوگا۔ پاکستان کا سب سے بڑا فوجی شہری اعزاز نشانِ حیدر اب تک دس شخصیات حاصل کرچکی ہیں ۔ ان شخصیات کے نام ہیں کیپٹن محمد سرور، میجر طفیل محمد، میجر عزیز بھٹی، پائلٹ آفیسر راشد منہاس، میجر محمد اکرم، میجر شبیر شریف، سوار محمد حسین، لانس نائک، محمد محفوظ شہید،کیپٹن کرنل شیر خان اور حوالدار لالک جان۔  

UP