سید امتیاز علی تاج کا قتل

سید امتیاز علی تاج ٭18 اور 19 اپریل 1970ء کی درمیانی رات دو نامعلوم نقاب پوش حملہ آوروں نے‘ جو سید امتیاز علی تاج کے گھر چوری کی نیت سے داخل ہوئے تھے‘ چاقوئوں کے پے در پے وار کرکے انہیں شدید زخمی کردیا جو ان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اگلے دن خالق حقیقی سے جاملے۔ سید امتیاز علی تاج کا شمار اردو کے صف اول کے ادیبوں میں ہوتا ہے اور ان کا ڈرامہ ’’انار کلی‘‘ اردو کے کلاسکس میں گنا جاتا ہے۔ امتیاز علی تاج 13 اکتوبر 1900ء کو لاہور میں پیدا ہوئے تھے‘ وہ گورنمنٹ کالج لاہور کے فارغ التحصیل تھے۔ دور طالب علمی ہی میں انہوں نے انگریزی کے کئی معرکہ آرا ڈراموں کو اردو میں منتقل کیا اور انہیں اسٹیج کیا۔ 1925ء میں ان کا معرکہ آرا ڈرامہ انار کلی اشاعت پذیر ہواجو شائع ہوتے ہی کلاسک کا درجہ اختیار کرگیا۔ امتیاز علی تاج نے ایک بھرپور ادبی زندگی گزاری۔ انہوں نے فن ڈرامہ نگاری پر تنقیدی مضامین لکھے‘ لاتعداد ڈرامے اردو میں منتقل کیے‘ اردو کے کلاسیکی ڈراموں کے متون کو مرتب اور شائع کیا ‘ کئی فلموں کی کہانیاں لکھیں اور پاکستان آرٹس کونسل‘ لاہور کے سیکرٹری اور مجلس ترقی ادب لاہور کے ناظم رہے۔حکومت پاکستان نے ان کی اعلیٰ ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور ستارہ امتیاز عطا کیا تھا۔

UP