> <

خواجہ ناظم الدین کی برطرفی، محمد علی بوگرا وزیر اعظم بنے

خواجہ ناظم الدین ٭17 اپریل 1953ء پاکستان کی تاریخ کا وہ سیاہ دن ہے جب پہلی مرتبہ بیورو کریسی کے ایک نمائندے نے ایک سیاست دان کا تختہ الٹا تھا۔ خواجہ ناظم الدین‘ شہید ملت لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد پاکستان کے وزیر اعظم بنے تھے مگر ان کی مرنجاں مرنج طبیعت کی وجہ سے ملک کے حالات روزبروز ابتری کی جانب رواں رہے۔ 1952 ء میں ملک میں قحط کا سا سماں پیدا ہوا۔ جنوری 1953ء میں کراچی کے طلبہ سراپا احتجاج بن گئے۔ فروری 1953ء میں ختم نبوت کی تحریک نے زور پکڑا حتیٰ کہ مارچ کے مہینے میں لاہور میں مارشل لاء نافذ کرنا پڑا۔ ادھر مشرقی پاکستان میں اردو کے ساتھ ساتھ بنگلہ کو قومی زبان کا درجہ دینے کے سلسلے میں لسانی تنازع جڑپکڑ گیا۔ ملکی حالات جب زیادہ ہی بگڑتے چلے گئے تو گورنر جنرل غلام محمد نے 17 اپریل 1953ء کی شام خواجہ ناظم الدین اور ان کی کابینہ کو گورنر جنرل ہائوس بلا کر پہلے ان سے استعفیٰ طلب کیے مگر جب ظفر اللہ خان کے علاوہ کوئی بھی مستعفی ہونے پر آمادہ نظر نہیں آیا تو انہوں نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے خواجہ ناظم الدین اور ان کی کابینہ کو برطرف کردیا۔ اسی رات‘ امریکا میں پاکستان کے سفیر محمد علی بوگرا نے‘ جو ان دنوں پاکستان آئے ہوئے تھے‘ پاکستان کے تیسرے وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھالیا۔  

UP