بھولو پہلوان رستم پاکستان بنے

بھولو پہلوان: رستم پاکستان ٭17 اپریل 1949ء کو کراچی میں ایک عظیم الشان دنگل میں بھولو پہلوان نے یونس پہلوان کو شکست دے کر رستم پاکستان کا خطاب حاصل کیا۔ اس دنگل کا احوال اختر حسین شیخ نے اپنی کتاب ’’داستان شہ زوراں‘‘ میں بڑی تفصیل سے رقم کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ’’یہ 17 اپریل 1949ء خواجہ ناظم الدین گورنرجنرل کے زمانے کا ذکر ہے۔ کراچی پولو گرائونڈمیں ایک عظیم الشان مگر عارضی اسٹیڈیم بنایا گیا۔ خواجہ ناظم الدین ہی اس تقریب کے مہمان خصوصی تھے فرائض منصفی میجر جنرل اکبر خان نے سرانجام دیے۔ دونوں پہلوان کچھ عرصہ قبل لاہورمیں ایک دوسرے کی طاقت کا اندازہ لگا چکے تھے یونس پہلوان کے لیے یہ مقابلہ گذشتہ داغ شکست کو دھونے کے مترادف تھا تو بھولو کو اپنی برتری قائم رکھنا تھی علاوہ ازیں رستم پاکستان کا فیصلہ بھی تصفیہ طلب تھا ان وجوہات کی بنا پر دونوں شہ زوروں نے تیاری میں کوئی کسر اٹھانہ رکھی تھی۔ مہمان خصوصی پانچ بجے شام کشتی گاہ میں تشریف لائے۔ رستم زماں گاما رستم ہند امام بخش اور حمید ارحمانی نے بصد احترام استقبال کیا۔ بھولو پہلوان نے بطور خاص ہاتھ ملایا یونس پہلوان بھی پنڈال میں موجود تھا تھوڑی دیر تک خواجہ صاحب دونوں پہلوانوں سے مصروف گفتگو رہے اور دونوں کے ڈیل ڈول کو ستائش بھر نظروں سے دیکھتے رہے۔ دونوںشہ زور اکھاڑے میں اترے توہجوم نے تالیوں اور فلک شگاف نعروں سے استقبال کیا۔ رسوم پہلوانی ادا کرنے کے بعد دونوں ایک دوسرے پر حملہ آور ہوئے۔ بھولو نے جھپٹ کر حریف کو کمر سے جکڑ لیا اور یہاں سے وہ مختلف دائو آزما سکتا تھا یونس نے تڑپ کر زور لگایا مگر بھولو کی گرفت سے آزاد نہ ہوسکا۔ اتنے میں بھولو نے کمر چھوڑ کر یونس کے جانگیے میں دونوں ہاتھ ڈالدیے اور پبی مار کر اسے نیچے گرالیا۔ اسی کھینچا تانی میں یونس کے جانگیے کا ازاربند ٹوٹ گیا۔ منصف نے فوراً مداخلت کی ‘ مقابلہ عارضی طور پر ختم کردیا گیا۔ یونس پہلوان جانگیہ تبدیل کرکے دوبارہ حریف کے مقابل ہوا تو ریفری نے اسی جگہ سے مقابلے کا آغاز کرایا جہاں سے مقابلے میں تعطل پیدا ہوا تھا۔ اس طرح یونس کو نیچے آنا پڑا اور بھولو نے سابقہ پوزیشن اختیار کرلی۔ انصاف کا تقاضا بھی یہی تھا بہرحال کشتی کا آغاز ازسرنو ہوا۔ یونس نے قلابازی لگا کر بھولو کے حصار سے نکلنے کی کوشش کی مگریہ کوشش اسے مہنگی پڑی۔ بھولو نے پلک جھپکنے میں ’’قید‘‘ ڈال دی اور یونس پہلوان بے بس ہوگیا۔ حمید ارحمانی والا بھی اس دائو کو اکثر و بیشتر استعمال میں لاتا تھا اور اس نے اپنے شاگرد رشید کا بھی یہ دائو خوب رواں کیا ہوا تھا۔ فتح اب بھولو سے چند قدم کے فاصلے پر تھی۔ کشتی کے اٹھارہویں منٹ میں بھولو نے حریف کو صاف چت کردیا۔ واضح رہے اس اٹھارہ منٹ کے وقت میں یونس پہلوان کا جانگیہ تبدیل کرنا بھی شامل ہے۔ منصف نے بھولو کو فاتح قرار دے کر رستم پاکستان کا اعلان کیا تو تماشائیوں نے دلی مسرت کا اظہار کیا۔ خواجہ عبدالحمید انکم ٹیکس کمشنر سائوتھ زون نے بھولو کی دستاربندی کی۔‘‘  

UP