> <

قائداعظم نے مسلم اوقاف کا بل پیش کیا

قائداعظم محمد علی جناح ٭قائداعظم کی پارلیمانی زندگی کے اوائل میں مسلم اوقاف کے بل کی منظوری کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ انہوں نے یہ بل آج سے سو سال قبل 17 مارچ 1911ء کو امپیریل لیجسلیٹو کونسل میں پیش کیا تھا اور دو سال کی جدوجہد کے بعد یہ بل 1913ء میں منظور کروایا تھا۔ قائداعظم نے یہ بل ایک وکیل کی طرح پیش کیا اور پرزور الفاظ میں مطالبہ کیا کہ مسلمانوں کے مسائل کے لیے اسلامی شرع نافذ کی جائے اور مسلمان شہری اپنی شرع کے مطابق اپنی جائیداد اپنی اولاد کو وقف کرسکیں۔ اسلامی شرع کے مطابق وقف شدہ جائیداد خاندان کے کسی ایک فرد کے اسراف یا نااہلی کی وجہ سے برباد نہیں ہوسکتی اور اس کے مالک نسلاً بعد نسلاً اس کے مستفید ہوتے رہتے ہیں۔ یہ بل 1913ء میں منظور ہوا۔ قانون سازی میں یہ قائداعظم کی پہلی ذاتی کامیابی تھی، ان کی اس کامیابی پر داد دیتے ہوئے مسز سروجنی نائیڈو نے کہا: ’’اس کارنامے کے باعث پہلی مرتبہ مسٹر جناح کو سارے ملک کے مسلمانوں کا اعتراف میسر آیا۔ ان کے اکثر ہم مذہب انہیں راسخ العقیدہ مسلمان نہیں سمجھتے لیکن ان کے اس کارنامے کے کچھ ہی عرصے بعد وہ سیاسی مشورے اور رہنمائی کے لیے ان سے رجوع کرنے لگے۔‘‘  

UP