جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی

جسٹس افتخار محمد چوہدری ٭ مارچ2007ء سے مارچ 2009ء تک سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس ، جسٹس افتخار محمد چوہدری کی اپنے عہدے سے جبری معزولی اور بحالی پاکستان کا ایک بڑا مسئلہ بنا رہا۔ 9 مارچ 2007ء کو صدر جنرل پرویز مشرف نے جسٹس افتخار محمد چوہدری کو ان کے اختیارات کے غلط استعمال ، مس کنڈکٹ اور منصب کے منافی بعض الزامات کے تحت انہیں ان کے عہدے سے مستعفی ہونے کا حکم دیا تھا تاہم ان کے انکار کے بعد صدر پرویز مشرف نے انہیں ان کے عہدے پر کام کرنے سے روک دیا تھا اور ان کے خلاف ایک ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کو ارسال کیا تھا جس نے 20 جولائی 2007ء کو جسٹس افتخار محمد چوہدری کو ان کے عہدے پر بحال کردیا تھا۔ مگر اس بحالی کے باوجود صدر پرویز مشرف سے ان کے تعلقات میں خلیج حائل رہی اور وہ اپنے ضمیر کے مطابق فیصلے دیتے رہے جس کے نتیجے میں 3 نومبر 2007ء کو صدر جنرل پرویز مشرف نے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کرکے جسٹس محمد افتخار چوہدری کو ان کے عہدے سے فارغ کردیا اور جسٹس عبدالحمید ڈوگر کا پاکستان کا نیا چیف جسٹس مقرر کردیا۔ 2008ء میں ملک میں جمہوری عمل کا آغاز ہوا تو عوام کو توقع تھی کہ جسٹس افتخار محمد چوہدری بھی اب واپس اپنے عہدے پر بحال ہوجائیں گے۔ حکومت نے کئی مرتبہ ان کی بحالی کا وعدہ بھی کیا مگر اس وعدے پر عمل درآمد نہیں ہوسکا جس کے نتیجے میں جون 2008ء میں وکلا نے چیف جسٹس کی بحالی کے لیے لانگ مارچ کیا۔ 11 مارچ 2009ء کو ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر علی احمد کرد کی زیر قیادت سابق صدر پرویز مشرف کی جانب سے برطرف کئے گئے ججوں کی بحالی کے لئے لانگ مارچ کا سلسلہ شروع ہوا۔ حکومت نے اس لانگ مارچ کو اسلام آباد کی طرف جانے سے روکنے کے لئے بھرپور اقدامات کئے تھے اور اسلام آباد کوکنٹینروں کا شہر بنادیاتھا مگر لانگ مارچ کے شرکا نے بھی ہمت نہیں ہاری اور عوام کا سمندر رکاوٹیں توڑ کر اسلام آبادروانہ ہوگیا۔ عوام کا یہ لانگ مارچ کامیابی سے ہمکنار ہوا اور16 مارچ 2009ء کی صبح5 بجکر 50منٹ پر وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے چیف جسٹس آف پاکستان، جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت تمام معزول ججوں کو بحال کرنے کا اعلان کردیا۔ اگلے روز 17 مارچ کو صدر آصف علی زرداری نے جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے 11 معزول ججوں کو ان کے عہدوں پر بحال کرنے کے نوٹیفکیشن پر دستخط کردیئے جس میں کہا گیا تھا کہ ان تمام معزول ججوں کو 3 نومبر 2007ء سے پہلے کی سنیارٹی پر بحال کردیا گیا ہے۔ اس نوٹیفکیشن کے مطابق جسٹس افتخار محمد چوہدری سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی21 مارچ کو ریٹائرمنٹ کے بعد22 مارچ سے اپنا منصب دوبارہ سنبھالیں گے جبکہ دیگر 10 جج فوری طور پر بحال تصور کئے جائیں گے۔ ان 10 ججوں میں سپریم کورٹ کے جسٹس جاوید اقبال، جسٹس خلیل الرحمن رمدے، جسٹس راجہ فیاض احمد اور جسٹس چوہدری اعجاز احمد، سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس مقبول باقر، جسٹس مشیر عالم، لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس خواجہ شریف، جسٹس اعجاز احمد چوہدری اور جسٹس اقبال حمید الرحمن اور پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس افضل خان شامل تھے۔  

UP