جسٹس محمد رستم کیانی کی وفات

جسٹس محمد رستم کیانی ٭15 نومبر 1962ء پاکستان کی عدلیہ کے انتہائی قابل احترام جج اور اردو کے ادیب جسٹس محمد رستم کیانی چاٹگام میں وفات پاگئے۔ جسٹس محمد رستم کیانی 18 اکتوبر 1902ء کو پیدا ہوئے تھے۔ان کا تعلق ضلع کوہاٹ کے ایک گائوں شاہ پور سے تھا۔ وہ ایڈورڈ کالج پشاور‘ گورنمنٹ کالج لاہور اور ٹرینی کالج کیمبرج کے فارغ التحصیل تھے۔ 1927ء میں وہ انڈین سول سروس میں شامل ہوئے۔ بعد ازاں ان کی خدمات عدلیہ کے شعبے میں منتقل کردی گئیں۔ قیام پاکستان کے بعد 1949ء میں وہ لاہور ہائی کورٹ کے جج اور 1959ء میں مغربی پاکستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بنے۔ 18 اکتوبر 1961ء کو وہ اسی عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ جسٹس کیانی نے عدالت عالیہ سے وابستگی کے دنوں میں حق پسندی اور صداقت کی جو روایت قائم کی اس کو ان کے مداحوں اور مخالفوں‘ سبھی نے خراج تحسین پیش کیا۔ مارشل لاء کے دنوں میں جسٹس کیانی کے بعض فیصلے اہل حکومت کو ناگوار گزرے مگر جسٹس کیانی نے کبھی حق گوئی کو مصلحت کیشی پر حاوی نہیں آنے دیا۔ اکتوبر 1958ء میں ملک میں مارشل لاء کے نفاذ کے بعد سے سرکاری ریڈیو اور اخبارات مسلسل فوج کی مدح سرائی میں مصروف تھے اور قوم کو تصویر کا صرف ایک رخ دکھایا جارہا تھا۔ برہنہ آمریت اور جبر و تشدد کے ان دنوں میں واحد آواز جو قانون کی حکمرانی، آزادیٔ اظہار اور شہری آزادیوں کے حق میں مسلسل بلند ہوتی رہی وہ آواز نحیف و نزار جسٹس ایم آر کیانی کی تھی جو ان دنوں مغربی پاکستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھے۔ ایسی ہی ایک تقریر انہوں نے 11 دسمبر 1958ء کو کراچی بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے کی۔ انہوں نے کہاکہ مارشل لاء کا نفاذ سب سے بڑی آفت ہے جو کسی قوم پر نازل ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ بدنصیبی تنہا نہیں آتی اس کے ساتھ فوجی دستے بھی ہوتے ہیں لیکن اس بار تو پوری فوج اس کے ساتھ ہے۔ جسٹس محمد رستم کیانی ایک شعلہ بیان مقرر اور نکتہ آفرین ادیب تھے۔ ان کی تقاریر اور مضامین کے کئی مجموعے شائع ہوئے جن میں افکار‘ پریشاں‘ دی ہول ٹرتھ اور ناٹ دی ہول ٹرتھ کے نام خصوصاً قابل ذکر ہیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے محترمہ فاطمہ جناح کی خواہش پر قائد اعظم کی سوانح لکھنے کا بیڑا اٹھایا تھا مگر موت نے انہیں اس کام کی مہلت نہیں دی۔ 15 نومبر 1962ء کو جسٹس محمد رستم کیانی چاٹگام میں انتقال کرگئے۔          

UP