قراردادمقاصد منظور ہوئی

1949 قراردادمقاصد ٭12 مارچ 1949ء کو  پاکستان کی مجلس دستور ساز نے وہ قرارداد مقاصد منظور کرلی جسے 7 مارچ 1949ء کو قائد ایوان لیاقت علی خان نے پیش کیا تھا۔ قرارداد مقاصد کا مسودہ علامہ شبیر احمد عثمانی نے تیار کیا تھا۔ اس قرارداد میں پاکستان کے دستور کی بنیاد اور مملکت پاکستان کے مقاصد بیان کیے گئے ہیں۔ 1985ء میں اس قرارداد کو پاکستان کے آئین کا حصہ بنا دیا گیا۔ قرارداد مقاصد کے چند اہم نکات یہ تھے: 1: اسلامی نقطہ نگاہ سے حاکمیت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے اور مملکت پاکستان کا اختیار حکمرانی‘ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک مقدس امانت ہے جسے جمہور کے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال کیا جائے گا۔ 2: ملک کا نظام حکومت وفاق اورطرز حکومت شورائی ہوگا۔ 3: پاکستان میں آباد اقلیتوں کے جائز حقوق اور مذہبی اور ثقافتی آزادی کا پورا تحفظ کیا جائے گا۔ 4: عدلیہ کو انتظامیہ سے علیحدہ رکھا جائے گا۔ 5:  بنیادی حقوق کی پاسداری کی جائے گی اور نظام عدل مکمل طور پر محفوظ اور آزاد ہوگا تاکہ اہل پاکستان فلاح و خوشحالی کی زندگی بسر کرسکیں۔ اقوام عالم کی صف میں اپنا جائز مقام حاصل کرسکیں اور امن عالم کے قیام اور بنی نوع انسان کی ترقی اور بہبود میں کماحقہ اضافہ کرسکیں۔  

UP