سندھ چیف کورٹ نے دستور ساز اسمبلی کو بحال کردیا

 دستور ساز اسمبلی ٭9 فروری 1955ء کو سندھ چیف کورٹ نے پاکستان کی عدالتی تاریخ کے چند اہم ترین مقدمات میں سے ایک مقدمے کا فیصلہ سنادیا۔ یہ مقدمہ مولوی تمیز الدین نے دستور ساز اسمبلی کی تحلیل کے حوالے سے دائر کیا تھا۔ ان کا موقف تھا کہ یہ اسمبلی چونکہ قانون ساز اسمبلی ہونے کے ساتھ ساتھ دستور ساز اسمبلی بھی تھی اس لئے اس کو توڑنے کا حق کسی اتھارٹی کے پاس نہیں تھا۔ یہ اسمبلی دستور کی تکمیل پرازخودختم ہوجاتی اس سے قبل اس کی تحلیل کا ایک ہی طریقہ تھا اور وہ یہ کہ یہ خود اپنے آپ کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کرتی۔ مولوی تمیزالدین کا موقف یہ بھی تھا کہ اسمبلی کو توڑنے کے گورنر جنرل کے حکم نامہ میں یہ تو کہا گیا تھا کہ دستور ساز اسمبلی اپنی موجودہ شکل میں عوام کے اعتماد سے محروم ہوچکی ہے اور یہ اپنا کام مزید جاری نہیں رکھ سکتی مگر اس پورے اعلان نامہ میں اسمبلی کو توڑنے کا لفظ شامل نہیں تھا۔ ان کے خیال میں ایسا اس لئے تھا کہ گورنر جنرل کو معلوم تھا کہ ایسی کوئی اتھارٹی موجود ہی نہیں ہے جو اسمبلی کو توڑنے کا اختیار رکھتی ہو۔ 9 فروری 1955ء کو سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرجارج کانسٹنٹائن کی سربراہی میں فل بنچ نے اس تاریخی مقدمے کا فیصلہ سنا دیاعدالت نے اپنے متفقہ فیصلہ میں لکھا  کہ گورنر جنرل کا دستور ساز اسمبلی کو توڑنے کا اقدام غیر قانونی تھا اور یہ کہ اسمبلی اور اس کے صدر قانون کی نظر میں اپنا وجود رکھتے ہیں۔ چنانچہ حکومت کو ان ذمہ داریوں کی ادائی کی راہ میں مزاحم نہیں ہونا چاہیے۔جسٹس محمد بخش میمن نے اپنی رائے لکھتے ہوئے کہا میں اس بات پر غیر متزلزل یقین رکھتا ہوں کہ گورنر جنرل کو اسمبلی توڑنے کا کوئی اختیار نہیں تھا۔ اسمبلی توڑنے کے اعلان نامے کی زبان بھی غیر معمولی ہے۔ اس میں صاف اور واضح الفاظ میں دستور ساز اسمبلی کو توڑنے کا ذکر نہیں کیا گیا۔بالعموم جب کوئی حکم نامہ جاری کیا جاتا ہے تو اس میں قانون کی اس شق کا حوالہ دیا جاتا ہے جس کے تحت اختیار کو استعمال کیاگیا ہو۔مگر گورنر جنرل کے اعلان نامے کو تحریر کرنے والوں کے سامنے ایسا کوئی قانون ہی نہیں تھا جس کا وہ حوالہ دے سکتے۔

UP