> <

استاد علی حیدر جوشی کی وفات

استاد علی حیدر جوشی ٭6 فروری 2004ء کو پشتو کے معروف شاعر اور ادیب استاد علی حیدر جوشی تخت بہائی میں وفات پاگئے۔ استاد علی حیدر جوشی 29 مئی 1914ء کو سمیلہ (اسماعلیہ) ضلع صوابی میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے پشتو ادب کو فروغ دینے میں بڑا نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی تصانیف کی تعداد 25 کے لگ بھگ ہے جن میں یکہ یوسف، پیغام جنت، دیدار حسین، دیدار مینہ، ادم روح، انجام غرور، گل سرحد، حکایات لاجواب، عجیبہ گل، پزدے غم، دیوان حیدری، آخری توبہ، غل اوساز، رحم داد خان اور دیوان جوشی کے نام سرفہرست ہیں۔ انہوں نے سرحد کے مشہور لوک داستان یوسف خان شیربانو کو بھی نظم کیا اور اسی نام سے پشتو کی پہلی فلم بھی بنائی۔ استاد علی حیدر جوشی کو حکومت پاکستان نے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا اور انہیں فخر مردان اور فخر تخت بہائی کے اعزازات بھی دیئے گئے تھے۔ علی حیدر جوشی سمیلہ (اسماعلیہ) ضلع صوابی میں آسودۂ خاک ہیں۔  

UP