ارشاد احمد حقانی کی وفات

ارشاد احمد حقانی ٭ 24 جنوری 2010ء کو نامور صحافی، تجزیہ نگار اور سابق نگراں وزیر فروغ ذرائع ابلاغ ارشاد احمد حقانی لاہور میں وفات پاگئے۔ ارشاد احمد حقانی 28 اپریل 1929ء کو قصور میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے اسلامیات اور تاریخ میں ایم اے کی سند حاصل کی۔ 1941ء میں وہ جماعت اسلامی سے وابستہ ہوگئے اور نہ صرف جماعت کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات کے منصب پر فائز ہوئے بلکہ جماعت اسلامی کے ترجمان تسنیم کے مدیر بھی رہے۔ 1957ء میں ماچھی گوٹھ میں منعقد ہونے والے جماعت اسلامی کے سالانہ اجتماع میں بعض دیگر اکابر کے ہمراہ وہ جماعت سے علیحدہ ہوگئے اور تدریس کے شعبہ سے وابستہ ہوگئے۔ وہ قصور کے اسلامیہ کالج کے پرنسپل بھی رہے۔انہوں نے تدریس کے شغل کے ساتھ صحافت سے بھی اپناتعلق برقرار رکھا اور مختلف اخبارات میں اداریہ نویسی کرتے رہے جن میں وفاق اور نوائے وقت کے نام سرفہرست تھے۔ 1981ء میں جب روزنامہ جنگ نے لاہور سے اپنی اشاعت کا آغاز کیا تو وہ پہلے ہی دن سے اس اخبار سے وابستہ ہوگئے اور اس اخبار میں شائع ہونے والا ان کا کالم حرف تمنا اخبار کا مقبول ترین کالم بن گیا۔اس کالم کی مقبولیت کا سب سے بڑا سبب وضاحت، قطعیت، بے باکی اور حقیقت پسندی کے ساتھ واقعات و حقائق کا تجزیہ کیا جانا تھا۔ ان کے تجزیوں کو قارئین ہی نہیں ملک کے مقتدر طبقے بھی بڑی توجہ سے پڑھتے تھے۔ ارشاد احمد حقانی خاصے طویل عرصہ تک روزنامہ جنگ لاہور کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر بھی رہے۔ نومبر1996ء میں جب ملک معراج خالد ملک کے نگران وزیراعظم بنے تو ارشاد احمد حقانی نے ان کی کابینہ میں وزارت اطلاعات و نشریات کا قلم دان سنبھالا اور اس وزارت کا نام بدل کر وزارت فروغ ذرائع ابلاغ رکھ دیا۔ ارشاد احمد حقانی نے کئی کتابیں بھی تحریر کی تھیں جن میں ان کی غیر مطبوعہ سوانح عمری پون صدی کا قصہ کا نام سرفہرست ہے۔وہ قصور میں آسودۂ خاک ہیں۔  

UP