> <

صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی۔ حمید اختر

 حمید اختر اردو کے معروف افسانہ نگار اور صحافی،انجمن ترقی پسند مصنّفین پاکستان کے صدر حمید اختر کا اصل نام اختر علی تھا اور وہ 4جون 1924ء کو لدھیانہ میں پیدا ہوئے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے لاہور میں سکونت اختیار کی اور صحافت کے پیشے سے وابستہ ہوئے۔ وہ سیدسجاد ظہیر، فیض احمد فیض، ساحر لدھیانوی، ابن انشا، کرشن چند، سعادت حسن منٹو، علی سردار جعفری، کیفی اعظمی اور عصمت چغتائی کے ساتھیوں میں شامل تھے۔ حمید اختر کا سلسلہ نسب اجمیر شریف کے ایک صوفی بزرگ خواجہ قطب الدین بختیاری سے ملتا تھا۔ انہوں نے اپنے گھرانے کی روایات کے مطابق محض دس برس کی عمر میں قرآن پاک حفظ کرلیا تھا۔ انہوں نے نہایت کم عمری سے ترقی پسند تحریک میں شمولیت اختیار کی بعدازاں وہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا اور کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان سے بھی وابستہ رہے۔ وہ ترقی پسند تحریک کی چلتی پھرتی تاریخ سمجھے جاتے تھے۔ 1950ء کی دہائی میں انہیں راولپنڈی سازش کیس میں بھی ملوث کیا گیا اور انہوں نے ایک سال تک قید تنہائی بھی برداشت کی۔ حمید اختر کا شمار پاکستان کے انتہائی سینئر اور قابل احترام صحافیوں میں کیا جاتا تھا۔انہوں نے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز روزنامہ امروز سے کیا۔ 1970ء میں عبداللہ ملک اور آئی اے رحمن کی معیت میں روزنامہ آزاد جاری کیا۔ عمر کے آخری حصے میں وہ روزنامہ ایکسپریس سے وابستہ تھے۔ حمید اخترپاکستان کی فلمی صنعت سے بھی گہری وابستگی رکھتے تھے۔قیام پاکستان سے قبل انہوں نے چند فلموںمیں کام بھی کیا تھا اور قیام پاکستان کے بعد انہوں نے دو فلمیں سکھ کا سپنا اور پرائی بیٹی بھی بنائی تھیں۔ انہوں نے ایک فلمی جریدہ ’’جلوہ‘‘ بھی جاری کیا مگر یہ جریدہ بھی زیادہ عرصے جاری نہ رہ سکا۔ حمید اختر کی تصانیف میں کال کوٹھری، احوال واقعی، احوال دوستاں، بے برگ و گیاہ، آشنائیاں کیا کیا اور روداد انجمن کے نام شامل ہیں۔ حمید اختر کی شخصیت پر احمد سلیم نے بھی ایک یادگار کتاب تصنیف کی ہے۔ حمید اختر پاکستان ٹیلی وژن کی نامور اداکارہ صبا حمید کے والد تھے۔ ان کی دو اور بیٹیاں ہما حمید اور لالہ رخ بھی پاکستان ٹیلی وژن کے ڈراموں میں اداکاری کا مظاہرہ کرتی رہی تھیں۔ حمید اخترنے 16 اکتوبر 2011ء کو لاہور میں وفات پائی اور ڈیفنس کے قبرستان میں آسودہ خاک ہوئے۔ حکومت پاکستان نے انہیں 14 اگست 2009 ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔

UP