> <

صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی۔ فہمیدہ ریاض

فہمیدہ ریاض اردو کی شاعرہ اور مترجم، فہمیدہ ریاض 28 جولائی 1946ء کومیرٹھ میں پیدا ہوئیں۔ قیام پاکستان کے بعد والدین کے ساتھ حیدرآباد میں سکونت اختیار کی اور سندھ یونیورسٹی جامشورو سے گریجویشن کیا۔ تصانیف میں پتھر کی زبان، بدن دریدہ، اپنا جرم ثابت ہے، ہم رکاب، میں تو مٹی کی مورت ہوں، گوداروی، دھوپ، ادھورا آدمی، زندہ بہار، سب لعل و گہر، کیا تم پورا چاند نہ دیکھو گے، خط مرموز، آدمی کی زندگی، کھلے دریچے سے، یہ خانہ آب و گل اور شیخ ایاز کی شاعری کا ترجمہ حلقہ میری زنجیر کا شامل ہیں۔ علمی سیاست سے بھی وابستہ رہیں اور جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء  کے زمانے میں خودساختہ جلاوطنی اختیار کرکے بھارت چلی گئیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی دورِ حکومت میں وطن واپس آئیں اور نیشنل بک کونسل کی ڈائریکٹر جنرل مقرر کی گئیں۔ کچھ عرصے تک اردو ڈکشنری بورڈ سے بھی وابستہ رہیں۔ حکومت پاکستان نے انہیں 14 اگست 2009 ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔کراچی میں قیام پذیر ہیں۔

UP