> <

صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی۔ احمد سلیم

احمد سلیم اردو اور پنجابی کے ممتاز محقق ،شاعر، نثر نگار اور صحافی احمد سلیم کا اصل نام محمد سلیم خواجہ ہے وہ 26 جنوری 1966ء کو گجرات کے گائوں میانہ گونڈل میں پیدا ہوئے۔ ترقی پسند ادبی تحریک کے انتہائی فعال اور مخلص کارکنوں میں شامل ہیں اور اس تحریک کے صف اوّل کے اہل قلم میں شمار کیے جاتے ہیں۔ جنرل یحییٰ خان کے دور میں قید و بند کی صعوبت بھی برداشت کی۔ عملی صحافت سے بھی وابستہ رہے اور گزشتہ 15 برس سے اسلام آباد کی ایک غیر سرکاری تنظیم سے وابستہ ہیں۔ 95 سے زیادہ کتابوں اور 25 تحقیقی مقالوں کے مصنف ہیں۔ شاعری کے مجموعوں میں نور منارے، کونجاں موئیاں، گھڑی دی ٹک ٹک، جب دوست نہیں ہوتا اور اک ادھوری کتاب دے بے ترتیب ورق شامل ہیں۔ جوبیجل نے آکھیا کے نام سے شیخ ایاز کی شاعری کا پنجابی میں ترجمہ کیا۔ نال میرے کوئی چلے اور تتلیاں تے ٹینک کے نام سے دو ناول بھی تخلیق کیے۔ سیاست کے موضوع پر جو کتابیں تحریر کیں ان میں ٹوٹتی بنتی اسمبلیاں، سیاستدانوں کی جبری نااہلیاں، پاکستان اور اقلیتیں، حمود الرحمن کمیشن رپورٹ اور پاکستان کے سیاسی قتل کے نام سرفہرست ہیںاس کے علاوہ فیض احمد فیض ،حمیداختر، مسعود کھدر پوش، احمد راہی اور کئی دوسرے اہل قلم پر کتابیں بھی قلم بند کیں۔ حکومت پاکستان نے انہیں 14 اگست 2010 ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ حکومت بنگلہ دیش نے بھی 1971ء میں بنگلہ دیش کی آزادی کی جدوجہد میں بنگلہ دیشی عوام کا ساتھ دینے پر بنگلہ دیش کا اعلیٰ شہری اعزاز بنگلہ دیش فریڈم ایوارڈ دینے کا اعلان کیا۔ اس کے علاوہ رائٹرز گلڈ ایوارڈ، پنجابی ادبی سنگت ایوارڈ، گرورام سنگھ آزادی ایوارڈ، مسعود کھدر پوش ایوارڈ اور پاکستان ٹیلی وژن کے بہترین دستاویزی پروگرام نگار کا ایوارڈ حاصل کرچکے ہیں۔ اسلام آباد میں قیام پذیر ہیں۔

UP