> <

صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی۔ ناہید اختر

ناہید اختر پاکستان کی مقبول اور خوبصورت گلوکارہ ناہید اختر 1954ء کو ملتان میں پیدا ہوئیں۔ نوجوانی ہی میں اپنے شوق کے پیش نظرریڈیو پاکستان ملتان سے گلوکاری کا آغاز کیا۔ 1970ء میں پی ٹی وی کے پروگرام لوک تماشا  میں حصہ لیا۔ وہاں پہ ان کا گایا ہوا گیت ’’مینوں سوڈا واٹر لے دے وے روز بالما کہندی‘‘ بہت مقبول ہوا۔ اس کے علاوہ پی ٹی وی کے لیے مزید گلوکاری بھی کرتی رہیں۔1974ء میں فلم انڈسٹری میں داخل ہونے کا موقع ملا۔ سب سے پہلے فلم ننھا فرشتہ میں ایم اشرف کی موسیقی میں ایک نغمہ گایا۔ یہ نغمہ تو اتنا مقبول نہ ہوا لیکن اسی سال شباب پکچرز کی فلم ’’شمع‘‘ میں ایک یادگار نغمہ گا کر ناہید اختر نے فلم انڈسٹری میں اپنے قدم جما لیے۔ انہی دنوں پاکستان کی مقبول اور سریلی آواز والی گلوکارہ رونا لیلیٰ پاکستان چھوڑ کر بنگلہ دیش جا چکی تھیں اور اس خلا کو ناہید اختر نے نہایت خوبصورتی سے پر کیا۔ اچھی شکل و صورت اور تیکھے نقوش والی، سریلی اور کانوں میں رس گھولنے والی پر کشش گلوکارہ ناہید اختر پر فلمی دنیا کے دروازے بہت تیزی سے کھلتے چلے گئے۔ ناہید اختر نے اپنے دور کی مقبول ترین ہیروئین کے لیے بے شمار گانے گائے لیکن ان کی آواز بابرہ شریف پر بہت فٹ ہوتی تھی۔ 1975ء میں بننے والی فلم ’’میرا نام ہے محبت‘‘ نے ناہید اختر کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ 1974ء سے لے کر 1991ء تک کے اپنے فنی سفر میں ناہید اختر نے نہ صرف اردو بلکہ پنجابی نغموں میں اپنے فن کا بام عروج پر پہنچایا بلکہ ان کے گائے ہوئے لوک گیت اور غزلیں بھی بے حد مقبول ہوئیں۔ ناہید اختر کے مقبول ترین نغموں، غزلوں اور ملی نغموں کی ایک طویل فہرست ہے۔ 1991 ء میں ناہید اختر نے معروف صحافی اور ٹی وی پروڈیوسر آصف علی پوتا کی ساتھ شادی کر کے گلوکاری کو خیرباد کہہ دیا اور خود کو صرف گھریلو زندگی تک محدود کر لیا۔ حکومت پاکستان نے انہیں 14 اگست 2006 ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔

UP