> <

صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی۔ بدر منیر

بدر منیر پشتو فلموں کے معروف فنکار بدر منیر 1943ء کو شاہ گرام مدین سوات میں پیدا ہوئے تھے۔ 1960ء  کی دہائی میں وہ کراچی آگئے اور یہاں محنت مزدوری کرکے گزر بسر کرنے لگے۔ وہ وحید مراد کے دفتر میں ٹی بوائے کا کام کرتے تھے پھر انہوں نے فلمی اسٹوڈیوز میں دیگر چھوٹے موٹے کام کرنا شروع کئے اور اسی دوران کئی فلموں میں ایکسٹرا کا کردار بھی ادا کیا۔ 1970ء میں انہیں پشتو زبان کی پہلی فلم ’’یوسف خان شیربانو‘‘ میں ہیرو کا کردار ادا کرنے کا موقع ملا۔ اس فلم نے بدر منیر کو راتوں رات اسٹار بنادیا اور پھر انہوں نے پلٹ کر پیچھے نہیں دیکھا۔ بدر منیر نے مجموعی طور پر 551 فلموں میں کام کیا جن میں 418 فلمیں پشتو میں،88 فلمیں اردو میں، 33 فلمیں پنجابی میں، 11 فلمیں سندھی میں اور ایک فلم ہندکو میں بنائی گئی تھی۔ بدر منیر نے 160 فلموں میں مرکزی کردار ادا کیا۔ ان کی مشہور فلموں میں دلہن ایک رات کی، جہاں برف گرتی ہے، اوربل، دو چور، ٹوپک زما قانون، دل والے، دیدن، جان کی بازی، مجاہد، لیونئی، ملتان خان اور لیوانئے شامل ہیں۔ انہوں نے ایک فلم عجب خان کی ہدایت بھی دیں۔ بدر منیر 11 اکتوبر 2008ء کو لاہور میں وفات پاگئے۔ وہ لاہور میں علامہ اقبال ٹائون میں کریم بلاک کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔ حکومت پاکستان نے انہیں 14 اگست 2008ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ 

UP