> <

صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی۔ عباس اطہر

عباس اطہر اردو کے نامورشاعر،ادیب اور صحافی عباس اطہر 21 اپریل 1939ء کو مغل پورہ لاہور کے قریب تاجپورہ (غازی آباد) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم جھنگ میں حاصل کی جہاں ان کے والد عبدالرحیم شاہ بسلسلہ ملازمت مقیم تھے۔ میٹرک اور ایف اے ساہیوال سے کیا۔ بعدازاں لاہور کے اسلامیہ کالج سول لائنز میں تھرڈائیر میں داخل ہو گئے۔ ادبی زندگی کا آغاز شاعری سے کیا لیکن بعدازاں مستقل طور پرصحافت سے وابستہ ہو گئے ۔کراچی میں شوکت صدیقی کی زیر ادارت شائع ہونے والے اخبار’’ انجام‘‘ کے سب ایڈیٹر رہے۔کم وبیش ایک سال کے بعد عباس اطہر کراچی سے واپس اپنے آبائی شہر لاہور آ ئے اور روزنامہ’’ امروز‘‘ سے وابستہ ہوگئے۔ بھٹو کی حمایت کی پاداش میں ضیاالحق دور میں قید وبند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔ 1981ء میں امریکہ چلے گئے اور1988 تک وہیں قیام کیا۔ ضیاالحق کے دور کے خاتمے پر وہ وطن واپس آگئے اور دوبارہ صحافتی زندگی کا آغاز کیا۔ اس دوران انہوں نے روزنامہ ’’مساوات‘‘، ’’صداقت‘‘، ’’آزاد‘‘، ’’خبریں‘‘، ’’پاکستان‘‘ اور ’’نوائے وقت‘‘ میں خدمات انجام دیں۔ان کی بنائی ہوئی روزنامہ ’’آزاد‘‘ کی ایک شہ سرخی’’ادھرہم اْدھر تم‘‘ نے ضرب المثل کی حیثیت اختیار کی۔ آپ2006 میں روزنامہ’’ ایکسپریس‘‘سے وابستہ ہو گئے۔ کالم نویسی کا باقاعدہ سلسلہ نوائے وقت  میں شروع ہوا اور ’’کنکریاں‘‘کے عنوان سے ان کے کالموں نے عالمی شہرت حاصل کی۔ عباس اطہر کا پہلاشعری مجموعہ ’’دن چڑھے، دریا چڑھے‘‘ 1964ء میں اور دوسرامجموعہ ’’کہا سنا‘‘ کے نام سے شائع ہوا لیکن اسے ضبط کر لیا گیا۔ بھٹو صاحب کی پھانسی کے موقع پر انہوں نے جو نظمیں کہیں وہ ’’ذکر‘‘کے نام سے الگ سے شائع ہو چکی ہیں۔ 2000ء میں ان کاتمام کلام کلیات کی صورت میں’’آواز دے کے دیکھ لو‘‘ کے نام سے شائع ہوا اور قبول عام کی سند حاصل کی۔ آپ ایک عرصے سے کینسر کے مرض میں مبتلا تھے۔آپ نے6 مئی2013 کو لاہور میں وفات پائی اور تاجپورہ لاہور میںدفن ہوئے۔ حکومت پاکستان نے انہیں 14 اگست 2008ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا ۔  

UP