صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی۔ رشید امجد

رشید امجد اردو کے نامور افسانہ نگار اصل نام اختر رشید ،5 مارچ 1940ء کو سری نگر مقبوضہ کشمیر میں پیدا ہوئے۔ میراجی: شخصیت اور فن کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی۔ ایک طویل عرصے تک تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے۔ تصانیف میں نیا ادب، رویے اور شناختیں، یافت و دریافت، شاعری کی سیاسی وفکری روایت، اقبال فکر و فن، میرزا ادیب: شخصیت و فن، میرا جی: شخصیت و فن، بیزار آدم کے بیٹے، ریت پر گرفت، سہ پہر کی خزاں، پت جھڑ میں خود کلامی، بھاگے ہے بیاباں مجھ سے، کاغذ کی فصیل، عکس بے خیال، دشت خواب، گمشدہ آواز کی دستک، ست رنگے پرندے کے تعاقب میں اور خودنوشت سوانح عمری تمنا بے تاب کے نام شامل ہیں۔ افسانوں کی کلیات دشت نظر سے آگے اور عام آدمی کے خواب کے نام سے اشاعت پذیر ہوچکی ہیں۔ حکومت پاکستان نے انہیں 14 اگست 2006ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ راولپنڈی میں قیام پذیر ہیں۔

UP