> <

صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی۔ شفقت تنویر مرزا

شفقت تنویر مرزا سینئر صحافی ،محقق اور حقوق انسانی کے کارکن شفقت تنویر مرزا 6 فروری1932ء کوپنجاب کے شہر وزیر آباد میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے صحافت کے سفر کا آغاز 1950ء میں اردو روزنامہ تعمیر راولپنڈی سے کیا اور بعد میں وہ روزنامہ ہلال سے وابستہ ہوگئے۔ شفقت تنویر مرزا نے دو سال ریڈیو پاکستان میں بھی کام کیا لیکن جنرل ایوب خان کے دور میں انہیں ملازمت سے نکال دیا گیا۔ انگریزی روزنامہ ’’سول اینڈ ملٹری گزٹ‘‘ کی بندش کے بعد انہوں نے روزنامہ امروز میں ملازمت اختیار کرلی تاہم جنرل یحییٰ خان کے دور میں انہیں روزنامہ امرزور سے بھی الگ ہونا پڑا۔ شفقت مزرا نے حنیف رامے اور منوبھائی کے ساتھ مل کر روزنامہ مساوات شروع کیا لیکن 1983ء میں وہ دوبارہ امروز سے وابستہ ہوگئے تاہم جنرل ضیاء الحق کی پالیسیوں کی مخالفت کی پاداش میں انہیں نوکری سے نکال دیا گیا اور انہوں نے دو سال قید بھی کاٹی۔ شفقت تنویر مرزا نے ضیاء الحق کی آمریت کے دوران انگریزی ہفت روزہ ویو پوائنٹ کے لیے بھی کام کیا۔ شفقت تنویرمرزا نے پچاس اقساط پر مبنی ایک پنجابی دستاویزی سیریل لوک ریت بھی بنائی۔ حکومت پاکستان نے پنجابی زبان اور صحافتی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں 14 اگست 2005ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ شفقت تنویر مرزا کا انتقال 20 نومبر 2012 ء کو ہوا۔

UP