> <

صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی۔ ڈاکٹر طارق رحمٰن

ڈاکٹر طارق رحمٰن پاکستان کے نامور ماہر تعلیم اور ماہر لسانیات ڈاکٹر طارق رحمٰن 4 فروری 1949ء کو بریلی میں پیدا ہوئے۔ برن ہال اسکول سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد انھوں نے پاکستان آرمی جوائن کی لیکن 1971ء میں مشرقی پاکستان میں فوجی ایکشن کے بعد انھوں نے احتجاجاً آرمی سے استعفیٰ دے دیا۔ بعد ازاں انھوں نے برطانیہ کی یونیورسٹی آف شیفیلڈ سے ڈاکٹریٹ کیا اور 1985ء میں پشاور یونیورسٹی کے شعبہ انگریزی سے منسلک ہوگئے۔ 1987 میں وہ آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی سے بطور سربراہ شعبہ وابستہ ہوئے۔ 1990ء میں انھوں نے گلاسگو کی یونیورسٹی آف اسٹریتھ کلائیڈ سے ایم لٹ کیا۔ 1990 میں وہ قائد اعظم یونیورسٹی، اسلام آباد  کے نیشنل انٹی ٹیوٹ آف پاکستان اسٹڈیز ، سے وابستہ ہوئے۔ 2007 میں وہ اس ادارے کے ڈائرکٹر مقرر ہوئے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انھوں نے قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباداور بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی لاہور میں خدمات انجام دیں۔ 2014 میں انھیں یونیورسٹی آف  شیفیلڈ نے ڈی لٹ کی ڈگری عطا کی ۔ ڈاکٹر طارق رحمان متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان کے ریسرچ آرٹیکلز بھی عالمی جرائد میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ انہیں افسانہ نگاری سے بھی شغف ہے اور ان کے افسانوں کے بھی کئی مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ ڈاکٹر طارق رحمان کو متعدد اعزازات سے نوازا جاچکا ہے جن میں14 اگست 2004ء کو حکومت پاکستان کی جانب سے عطا کیا جانے والا صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور 14 اگست 2013 کو عطا کیا جانے والا ستارہ امتیاز سرفہرست ہے۔ یکم اکتوبر 2013 کو انھیں حکومت بنگلہ دیش نے فرینڈز آف بنگلہ دیش لبریشن وار آنر کا اعزاز عطا کیا ہے۔

UP