> <

صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی۔ اعصام الحق قریشی

اعصام الحق قریشی ٹینس کے مشہور پاکستانی کھلاڑی اعصام الحق قریشی 17 مارچ 1980ء کو لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا تعلق ایک ایسے گھرانے سے ہے جہاں ٹینس کے چیمپئین پیدا ہوتے رہے ہیں۔ اعصام الحق کے نانا خواجہ افتخار قیام پاکستان سے پہلے ٹینس کے آل انڈیا چیمپئن رہ چکے تھے اور ان کی والدہ نوشین احتشام قریشی 10 مرتبہ پاکستان کی قومی ٹینس چیمپئن رہ چکی تھیں۔ خواجہ افتخار کو حکومت پاکستان نے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور نوشین احتشام کوتمغہ امتیاز کے اعزازات عطا کئے تھے۔ اعصام الحق قریشی نیٹینس کھیلنے کا باقاعدہ آغاز چودہ سال کی عمر میں کیا۔ ان کی پہلی کوچنگ کے فرائض ان کی والدہ نے نبھائے۔ سولہ سال کی عمر میں ان کو انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن نے دو سال کے لئے سپانسر کیا۔ انھوں نے پہلی کامیابی پاکستان انٹرنیشنل جونئیر چیمپئین شپ جیت کرحاصل کی اور یوں کامیابیوں کا یہ سلسلہ چلنے لگا۔ اس کے بعد انھوں نے کاسابلانکا کپ میکسیکو اور ایل ٹی اے انٹرنیشنل جونئیر چیمپئین شپ میں اپنا لوہا منوایا۔ انھوں نے اٹھارہ سال کی عمر میں اینڈی راڈک جیسے ٹینس کے منجھے ہوئے کھلاڑی کو بھی شکست سے دوچار کیا۔ اعصام نے امریکہ کے رابرٹ ڈیوس کی نگرانی میں بھی تربیت حاصل کی۔ پاکستانی میڈیا میں اعصام الحق قریشی اس وقت خبروں کا موضوع بنے جب 26 جون 2007ء کو ٹینس کے سب سے بڑے مقابلے ومبلڈن ٹینس چیمپئن شپ کے پہلے راؤنڈ میں انھوں نے انگلستان کے لی چائلڈز کو 6-3، 6-4، 7-6(8-6) سے شکست دے کر ومبلڈن کے دوسرے رائونڈ تک رسائی حاصل کرلی۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے دوسرے پاکستانی کھلاڑی تھے۔ ان سے قبل پاکستان کے ہارون رحیم ومبلڈن کا دوسرا راؤنڈ کھیلنے کا اعزاز حاصل کرچکے تھے جبکہ ایک اور کھلاڑی خواجہ سعید ومبلڈن کے پہلے راؤنڈ تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ اعصام الحق قریشی کو نومبر 2010ء میں اقوام متحدہ کی جانب سے خیر سگالی کا سفیر نامزد کیا گیا۔ اسی سال انھیں اور ان کے بھارتی پارٹنر روہن بھوپنا کو آرتھر ایشی ہیومنیٹیرین آف دی ائیر کا ایوارڈدیا گیا، اس کے علاوہ ٹینس کی دنیا میں کامیابیوں اور نمایاں کارکردگی کے اعتراف پر اعصام اور بھوپنا کو امن اور کھیل کا ایوارڈبھی دیا گیا ہے اور حکومت پاکستان نے اعصام الحق کو 14 اگست 2004 ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور بعد ازاں ستارہ امتیاز کا اعزاز عطا کیا تھا۔

UP