> <

صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی۔ محمد منشا یاد

محمد منشا یاد اردو اور پنجابی کے نامور ادیب، محمد منشا یاد 5 ستمبر 1937ء کو شیخوپورہ میں پیدا ہوئے۔ تصانیف میں بند مٹھی میں جگنو، ماس اور مٹی، خلا اندرخلا، وقت سمندر، وگدا پانی، درخت آدمی، دور کی آواز، تماشا، خواب سرائے، ٹانواں ٹانواں تارا،شہر فسانہ، اک کنکر ٹھہرے پانی میں، میں اپنے افسانوں میں تمھیں پھر ملوں گا اور منشایئے ان کی کہانیوں کے نمائندہ مجموعے ہیں جبکہ جنون، بندھن، آواز اورپورے چاند کی رات‘ اُن کے معروف ٹیلی ویژن ڈرامے ہیں۔ منشا یاد پنجابی میں بھی اُسی روانی اور سہولت سے لکھتے تھے جیسے اردو میں، چنانچہ ان کے پنجابی ناول ’’ٹاواں ٹاواں تارا‘‘ کو انتہائی کامیابی کے ساتھ ایک ڈرامہ سیریل میں ڈھالا گیا جو کہ ’’راہیں‘‘ کے نام سے پی ٹی وی سے نشر ہوا۔ انھیں پاکستان ٹیلی وژن نے نیشنل ایوارڈ، اکادمی ادبیات نے وارث شاہ ایوارڈ (دو مرتبہ)، ادارہ نقوش نے نقوش ادبی ایوارڈ اور حکومت پاکستان نے 14 اگست 2004ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ 2006ء میں انھیں پنجابی میں بہترین ناول نگاری کا بابا فرید ادبی ایوارڈ بھی دیا گیا جبکہ 2010ء میں انھیں عالمی فروغ ادب ایوارڈ سے بھی سرفراز کیا گیا۔ منشا یاد نے اسلام آباد میں حلقہ ارباب ذوق کی شاخ بھی قائم کی تھی اور عمر کے آخری دن تک اس تنظیم میں فعال رہے۔ محمد منشا یاد نے 15،اکتوبر 2011ء کو اسلام آباد میں وفات پائی اور مرکزی قبرستان میں آسودہ خاک ہوئے۔

UP