> <

صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی۔ ڈاکٹر محمد علی صدیقی

ڈاکٹر محمد علی صدیقی اردو کے ممتاز ترقی پسند نقاد، ماہرِ تعلیم ،انگریزی کالم نگار اور انجمن ترقی پسند پاکستان کے صدر ڈاکٹر محمد علی صدیقی 7 مارچ 1938ء کو ہندوستان کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ اپنے خاندان کے ساتھ کراچی آگئے اور یہاں کرسچین مشن سکول میں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ انھوں نے ڈی جے سائنس کالج سے 1953ء میں انٹرمیڈیٹ کیا اور اس کے بعد انگریزی ادب میں ماسٹر اور مطالعہ پاکستان میں پی ایچ ڈی کی ڈگریاں کراچی یونیورسٹی سے حاصل کیں۔ ڈاکٹریٹ کے بعد انہوں نے دوبارہ 2003ء میں اسی موضوع پر ڈی لٹ کی۔ اس موضوع پر پی ایچ ڈی اور ڈی لیٹ کرنے والے وہ پہلے فرد تھے۔ ڈاکٹر محمد علی صدیقی کو انگریزی، فرانسیسی، فارسی، پنجابی، سندھی، سرائیکی اور اردو سمیت کئی زبانوں میں مہارت حاصل تھی۔ وہ پاکستان اور بیرون پاکستان کئی اہم اور ادبی تنظیموں کے رکن تھے اور انھیں برطانیہ، کینیڈا اور ناروے کی جامعات میں لیکچر کے لیے مدعو کیا جاتا تھا۔ ڈاکٹر محمد علی صدیقی نے سو سے زیادہ ریسرچ آرٹیکلز تحریر کیے۔ وہ پاکستان کے انگریزی روزنامہ ڈان میں ’ایریل‘ کے نام سے کئی دہائیوں تک ادبی، سماجی کالم لکھتے رہے جسے خاصی دلچسپی سے پڑھا جاتا تھا۔۔ انہوں نے سولہ کتابیں تحریرکیں۔ ان کی دو کتابوں توازن، اور کروچے کی سرگزشت کو سال کی بہترین کتابوں کے ایوارڈ حاصل ہوئے۔ڈاکٹر محمد علی صدیقی کی علمی اور ادبی خدمات پر انہیں14 اگست 2003ء کو صدارتی ایوارڈ پرائڈ آف پرفارمنس دیا گیا۔ کینیڈین ایسوسی ایشن آف ساوتھ ایشین سٹڈیز نے انہیں 1984ء میں بہترین ا سکالر کے اعزاز سے نوازا، وہ دوسرے پاکستانی تھے جنہیں یہ اعزاز ملا تھا۔ ڈاکٹرمحمد علی صدیقی کی تصانیف میں توازن ،کروچے کی سرگزشت، نشانات، مضامین، اشارے، تلاشِ اقبال، سرسید احمد خان اور جدت پسندی، مطالعاتِ جوش، غالب اور آج کا شعور اور ادراک کے نام سرفہرست ہیں۔انھوں نے بانی پاکستان محمد علی جناح پربھی کئی تصانیف اور تالیفات یادگار چھوڑیں۔ ڈاکٹر محمد علی صدیقی کا انتقال 9 جنوری 2013ء کو کراچی میں ہوا۔وہ کراچی میںسخی حسن قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔

UP