> <

صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی۔ شمشیر الحیدری

 شمشیر الحیدری پاکستان کے مشہور شاعر، صحافی، ڈرامہ نگار اور براڈ کاسٹر شمشیر الحیدری15 ستمبر 1932 ء کو سندھ کے ضلع بدین میں کڈھن کے مقام پر پیدا ہوئے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم پہلے بدین گورنمنٹ سکول میں اور پھر کراچی میں سندھ کے قدیم تعلیمی ادارے سندھ مدرسۃ الاسلام میں حاصل کی۔ لکھنے اور عملی زندگی کی ابتدا انھوں نے 1951ء میں اپنے چچا ڈاکٹر نوید الحیدری ایڈیٹر ہفت روزہ ’عین الحق‘ کے ساتھ کام سے شروع کیا۔ اِسی ہفت روزہ میں انھوں نے اپنی شاعری اور تنقیدی مضامین کی اشاعت کی ابتدا بھی کی۔ اس کے بعد وہ 1954ء میں وہ حیدرآباد منتقل ہو گئے اور وہاں سے روزنامہ صحافت کی ابتدا کی۔ غالباً اسی دوران انھوں سندھ یونیورسٹی سے ماسٹرز بھی کیا اور انیس سو چھپن میں سرکاری ملازمت اختیار کر لی اور بالاخر انیس سو اکانوے میں وزارتِ اطلاعات سے گریڈ انیس کے افسر کے طور پر سبکدوش ہوئے۔وہ دس سال تک سندھی ادبی بورڈ کے سیکرٹری رہے اور اس دوران انھوں نے پونے دو سو سے زائد کتابوں کی تدوین اور ترجمہ کرایا۔ وہ سندھ میں ادیبوں کی سب سے بڑی تنظیم سندھی ادبی سنگت کے بانی تھے۔ اس کے علاوہ وہ پاکستان میں ٹیلی ویژن کے اولین سندھی اینکر اور سکرپٹ رائٹر اور ڈرامہ نگار بھی تھے۔وہ اڑتیس سال تک پاکستان ٹیلی ویژن کے لیے لکھتے رہے اور انھوں نے ایک سو کے لگ بھگ سندھی اور اردو ڈرامے لکھے۔ ریڈیو اور ٹی وی کے دوسرے پروگراموں کے لیے لکھے جانے والے دوسرے اسکرپٹس اس کے علاوہ ہیں۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ’لاٹ‘ (دیے کی لو) پہلی بار 1962ء میں شائع ہوا جس کی نئی اشاعت چالیس سال بعد 2012ء میں ہوئی۔ ان کے لکھے ہوئے کئی گیت اور غزلیں انتہائی مقبول ہوئیں۔ اپنے شعری اسلوب کے مطابق وہ اردو سے بہت قریب تھے اور غالباً سندھی میں آزاد نظم لکھنے والے پہلے جدید شاعر بھی تھے۔اس کے علاوہ ان کی آٹھ کتابیں سندھی اور اردو میں شائع ہوئیں جن میں شاعری، تنقید اور بچوں کے لیے کی جانے والی شاعری بھی شامل ہے۔ وہ ہمیشہ لکھنے پڑھنے میں مصروف رہتے تھے اور ان کا بہت سا کام اب تک غیر مطبوعہ ہے۔ شمشیر الحیدری کی خدمات کے اعتراف میں 14 اگست 2000ء کوحکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ ان کا انتقال 10 اگست 2012ء کو کراچی میں ہوا۔

UP