> <

صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی۔ سہراب فقیر

سہراب فقیر پاکستان کے معروف لوک فن کار سہراب فقیر کا اصل نام سہراب خاصخیلی تھا۔ وہ 1934ء میں خیرپور میرس میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد حمل فقیر بھی اپنے وقت کے نامور گائیک تھے اور تھری میرواہ میں مدفون بزرگ شاعر خوش خیر محمد ہسبانی کے مرید تھے۔ سہراب فقیر نے گائیکی کی ابتدائی تربیت اپنے والد حمل فقیر سے حاصل کی اور پھر پٹیالہ گھرانے کے معروف استاد خان صاحب کیتے خان کے شاگرد ہوگئے جنہوں نے انہیں راگ کے ساتھ ساتھ طبلہ بجانے کی بھی تعلیم دی۔ سہراب فقیر نے کچھ عرصہ استاد خورشید علی خان اور استاد منظور علی خان کے ساتھ سنگت بھی کی۔ 1974ء میں استاد منظور علی خان کے کہنے پر انہوں نے گائیکی کا آغاز کیا۔ وہ سچل سرمست، شاہ لطیف بھٹائی، سلطان باہو اور بابا بلھے شاہ کا کلام والہانہ انداز میں گاتے تھے، ان کے گانے کا یہ انداز پورے ملک میں بے حد مقبول ہوا۔ریڈیو پاکستان میں انہوں نے مشہور شاعر غمدل فقیر کے گیت گلیاں پریم ننگردیاں، حضرت عشق گھایم سے اپنی گائیکی کا آغاز جو نہ صرف سندھ بلکہ بیرون سندھ بھی ان کی پہچان بن گیا۔ سہراب فقیر نے متعدد ممالک میں اپنے فن کا جادو جگایا۔ انہیں لاتعداد اعزازات بھی حاصل ہوئے جن میں سچل ایوارڈ، قلندر ایوارڈ، لطیف ایوارڈ اور ریڈیو خیرپور کے ایوارڈز سرفہرست ہیں۔سہراب فقیر 23 اکتوبر 2009 کو دنیا سے رخصت ہوئے اور اپنے آبائی گا ؤں میں آسودہ خاک ہوئے۔ حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں 14 اگست 1999ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔

UP