> <

صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی۔ نازیہ حسن

نازیہ حسن پاکستان کی مشہور گلوکارہ نازیہ حسن 3 اپریل1965ء کو کراچی میں پیدا ہوئی تھیں۔ انہوں نے اپنے فنی کیریئر کا آغاز پاکستان ٹیلی وژن کے مشہور پروگرام سنگ سنگ چلیں سے کیا جس میں ان کے بھائی زوہیب حسن بھی ان کے ساتھ شرکت کرتے تھے۔ ان دونوں بھائی بہن نے گلوکاری کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کی۔ پاکستان پاپ موسیقی کو روشناس کرانے کا سہرا بھی انہی بھائی بہن کو جاتا ہے۔ عالمی سطح پر نازیہ حسن کو اس وقت شہرت ملی جب انہوں نے بھارتی موسیقار بدو کی موسیقی میں فلم ’’قربانی‘‘ کا مشہور نغمہ ’’آپ جیسا کوئی میری زندگی میں آئے‘‘ ریکارڈ کروایا۔ اس نغمے نے مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کئے اور اس پر انہیں بھارت کا مشہور فلم فیئر ایوارڈ بھی عطا ہوا۔ وہ یہ ایوارڈ حاصل کرنے والی پہلی پاکستانی شخصیت تھیں۔ فلم قربانی کے اس نغمے کی مقبولیت کے بعد نازیہ اور زوہیب حسن کا مشہور البم ڈسکو دیوانے ریلیز ہوا۔ اس کیسٹ نے بھی فروخت اور مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کئے۔ نازیہ حسن اور زوہیب حسن نے پاکستان میں پاپ موسیقی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا اور صاف ستھرا انداز اپناتے ہوئے عالمی شہرت حاصل کی۔ دونوں بہن بھائی نے جب جدید انداز میں ٹیلی وژن اور اسٹیج پر پرفارم کرنے شروع کیا تو ان پر اعتراضات کی بھرمار بھی ہوئی لیکن دونوں سب اعتراضات سے بے نیاز آگے بڑھتے رہے۔ نازیہ حسن اور زوہیب حسن کے دیگر مقبول کیسٹوں میں بوم بوم اور ینگ ترنگ کے نام سرفہرست ہیں۔ انیس سو پچانوے میں نازیہ حسن کی شادی مرزا اشتیاق بیگ سے ہوئی، ان کے ایک بیٹا بھی ہوا۔ شادی کے کچھ عرصے کے بعد اطلاع ملی کہ نازیہ حسن کینسر کے موذی مرض میں مبتلا ہیں۔ اس کے بعد ان کے اپنے شوہر اشتیاق بیگ سے اختلافات کی خبریں بھی منظرعام پر آئیں۔ 13 اگست 2000ء کو نازیہ حسن لندن میں وفات پاگئیں۔ وہ نارتھ لندن کے مسلم قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔ نازیہ حسن کی وفات کے بعد حکومت پاکستان نے انہیں 14 اگست 2001ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔

UP