> <

صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی۔ دلاور فگار

دلاور فگار اردو کے  نامورمزاح گو شاعر دلاور فگار 8جولائی 1929ء کو بدایوں میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنی شاعری کی ابتدا سنجیدہ غزل سے کی جس کا ایک مجموعہ ’’حادثے‘‘ کے عنوان سے اشاعت پذیر بھی ہوا۔ ان کی مزاحیہ شاعری کا آغاز اتفاقی طور پر ہوا۔ ہوا یوں کہ انہوں نے اپنے ایک دوست کو مزاحیہ نظمیں لکھ کر دینا شروع کیں جو مشاعروں میں بے حد مقبول ہوئیں مگر جب دلاور فگار کے قریبی دوستوں کو علم ہواکہ یہ نظمیں ان کی کہی ہوئی ہیں تو انہوں نے دلاور فگار سے اصرار کیا کہ وہ یہ نظمیں مشاعرے میں خود پڑھا کریں۔ یوں دلاور فگار کا شمار اردو کے اہم مزاح نگار شاعروں میں ہونے لگا۔ 1968ء میں وہ پاکستان آگئے، یہاں بھی ان کی شاعری کی بڑی پذیرائی ہوئی۔ دلاور فگار کے مزاحیہ شعری مجموعوں میں انگلیاں فگار اپنی، ستم ظریفیاں، آداب عرض، شامت اعمال، مطلع عرض ہے، سنچری، خدا جھوٹ نہ بلوائے، چراغ خنداں اور کہا سنا معاف کرنا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے جمی کارٹر کی تصنیف کا اردو ترجمہ ’’خوب تر کہاں‘‘ کے نام سے کیا تھا۔ حکومت پاکستان نے ان کی وفات کے بعد انہیں 14 اگست 1999ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ دلاور فگار21جنوری 1998ء کو کراچی میں وفات پاگئے وہ کراچی میں پاپوش نگر کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔

UP