> <

صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی۔ ڈاکٹر انعام الحق کوثر

ڈاکٹر انعام الحق کوثر اردو کے نامور ادیب اور دانشور ڈاکٹر انعام الحق کوثریکم اپریل 1931ء کو پیدا ہوئے۔ ان کی زندگی کا بیشتر حصہ بلوچستان میں درس و تدریس میں گزرا۔ پرنسپل ڈگری کالج لورا لائی رہے۔ کوئٹہ میں مستقل قیام پذیر ہو کر مختلف عہدوں پر رہتے ہوئے بلوچستان کے حوالے سے خاصا علمی و ادبی کام کیا۔ ڈاکٹر انعام الحق کوثر بلو چستان کے پہلے شخص تھے جنہوں نے قیام پاکستان کے بعد 1963ء میں پی ایچ ڈی کی سند حا صل کی۔ آپ نے 1954 ء میں گورنمنٹ کا لج کو ئٹہ سے تدریس کا آغاز کیا۔ 1969ء میں اسسٹنٹ پروفیسر ہو ئے ، پہلے گورنمنٹ کا لج مستو نگ بعد از آں گورنمنٹ کا لج لورالائی کے پرنسپل کے فرا ئض انجا م دئیے، بلو چستان یو نیورسٹی میں ایسو سی ایٹ پروفیسر کی حیثیت سے خدما ت انجام دیں۔ 1980ء میں بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجو کیشن کو ئٹہ کے چیر مین مقرر ہو ئے۔ 1985ء میں ڈائریکٹر تعلیمات بلو چستان کی ذمہ داریاں سنبھالیں اور اسی حیثیت سے 1991ء  میں ریٹائرہو ئے۔ ڈاکٹر انعام الحق کوثر کے تحقیقی کاموں میں تحریک پاکستان میں بلوچستان کا حصہ، بلوچستان میں فارسی شاعری، بلوچستان میں اْردو ادب کے سو سال، علامہ اقبال اور بلوچستان، بلوچستان میں تحریکِ تصوف، تذکرہ صوفیائے بلوچستان، بلوچستان میں اْردو کی قدیم دفتری دستاویزات، پاکستانی زبانوں کے صوفی شعرا، بلوچستان میں بولی جانے والی زبانوں کا تقابلی مطالعہ، اقبالیات کے چند خوشے، مرزا غالب قومی و عالمی تناظر میں، قومی زبان کی ترقی میں صوبوں کا حصہ ،بلوچستان میں نفاذ اْردو، تذکرہ صوفیائے بلوچستان، بلوچستان میں اْردو، ثقافت و ادب وادی بولان میں، ارمغان کوثر اور جوئے کوثر کے نام شامل ہیں۔ بلو چستان کے حوا لے سے شا ید ہی کوئی مو ضوع یا گوشہ ایسا ہوگا جو ڈا کٹر صاحب کی نظر سے اوجھل ہو اور آپ نے اس پر کام نہ کیا ہو۔ انھیں بلا شبہ بلو چستان پر ایک مستند اور معتبر محقق کی حیثیت حاصل تھی۔ وہ بلوچستان کے غیر مقامی آبادکار تھے، جب اْنہیں بلوچستان میں مزید قیام ناممکن نظر آیا تو وہ خاموشی سے لاہور آ بسے اور خود اختیاری گوشہ گمنامی میں رہ کر 13 دسمبر 2014ء کو دنیا سے رخصت ہوئے۔ حکومت پاکستان نے انہیں 14 اگست 1997ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔

UP