> <

صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی۔ ممتاز مرزا

ممتاز مرزا سندھی زبان کے معروف ادیب، محقق، شاعر اور دانشور ممتاز مرزا کا اصل نام توسل حسین تھا اور وہ29 نومبر1939ء کوحیدرآباد میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا تعلق مرزا قلیچ بیگ، مرزا اجمل بیگ اور مرزا بڈھل بیگ کے ذی علم گھرانے سے تھا۔ ان کے والد مرزا گل حسن احسن کربلائی بھی سندھ کے معروف شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ممتاز مرزا نے اپنی علمی زندگی کا آغاز سندھی ادبی بورڈ سے کیا جہاں انہیں سندھی اردو اور اردو سندھی ڈکشنری اور سندھ کے لوک ادب کی تدوین کا سونپا گیا۔ بعدازاں وہ ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی وژن سے وابستہ رہے۔ عمر کے آخری حصے میں وہ سندھ کے محکمہ ثقافت کے ڈائریکٹر جنرل بنے جہاں انہوں نے شاہ لطیف بھٹائی کے مجموعہ کلام رسالہ کا قدیم ترین نسخہ گنج کے نام سے شائع کیاتھا۔ ممتاز مرزا کی تصانیف میں سپریان سندھی گالھڑی، سدا سوئیتا کاپڑی اور وساریان نہ وسرن شامل ہیں۔ ممتاز مرزا 6 جنوری 1997ء کو وفات پاگئے۔ وہ حیدرآباد میں ٹنڈو آغا کے قبرستان میںآسودہ خاک ہیں۔ حکومت پاکستان نے14 اگست 1997ء کوان کی وفات کے بعد انھیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔

UP