> <

صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی۔ شہزاد احمد

شہزاد احمد اردو کے معروف شاعر، نفسیات دان، محقق اور فلسفی شہزاد احمد نے 16 اپریل 1932ء کو مشرقی پنجاب کے مشہور شہر امرتسر کے ایک ممتاز خاندان میں ڈاکٹرحافظ بشیر کے گھر جنم لیا، انھوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے 1956ء میںنفسیات اور 1958ء میں فلسفہ میں ایم کی اسناد حاصل کیں۔ ابتدا میں فلمی دنیا میں مکالمہ نگاری اور ہدایت کاری کی کوشش کی مگر اس ماحول سے مطابقت پیدا نہ کر سکے۔ 1958ء میں تھل ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں تعلقات عامہ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر مقرر ہوئے، کچھ عرصے پاکستان ٹیلی وژن، لاہور مرکز کے ا سکرپٹس کے شعبے کے سربراہ رہے۔عمر کے آخری حصے میں مجلس ترقی ادب میں ڈائرکٹر کے عہدے پر فائز تھے۔ شہزاد احمد کی غزلوں کا پہلا مجموعہ صدف 1958ء میں منظر عام پر آیا۔ 1969 میں ان کی غزلوں کے دوسرے مجموعے جلتی بجھتی آنکھیں پرانھیں آدم جی ادبی انعام دیا گیا۔جبکہ 1994ء میںان کے شعری مجموعے ٹوٹا ہوا پل پر انہیں ہجرہ(اقبال) ایوارڈ دیا گیا۔ ان کے دیگرمجموعوں میںادھ کھلا دریچہ، خالی آسمان ،بکھرجانے کی رت ،دیوار پہ دستک، کون اسے جاتا دیکھے،پیشانی میں سورج ،جاگن والی رات (پنجابی شاعری)، اترے مری خاک پر ستارہ،معلوم سے آگے ،اندھیرا دیکھ سکتا ہے،ایک چراغ اور بھی اورآنے والا کل شامل ہیں۔ حکومت پاکستان نے انہیں 14 اگست 1997ء کو ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا گیا۔ شہزاد احمد نے شعراور نقد شعر کے علاوہ نفسیات اور فلسفہ کے موضوعات پرتیس سے زیادہ کتابیںتحریر کیں اور متعدد اہم سائنسی موضوعات پر لکھی گئی معروف کتب کے تراجم بھی کیے۔ اسلام ، نفسیات اور فلسفہ ان کا محبوب موضوع تھا اور اس سلسلے میں ان کی تصانیف اور تراجم پاکستانی ادب کا بیش قیمت سرمایہ ہیں۔ ان کی تصانیف اور تراجم میں مذہب، تہذیب اور موت، ذہن انسانی کا حیاتیاتی پس منظر، تیسری دنیا کے مسائل اور سائنسی انقلاب: دوسرا رخ اور فرائیڈ کی نفسیات کے دو دور کے نام سرفہرست ہیں۔ انہیں نقوش ادبی ایورڈ 1989ء اور مسعود کھدر پوش ایوارڈ 1997ء بھی مل چکا تھا۔ شہزاد احمد نے یکم اگست 2012ء کو لاہور میں وفات پائی۔

UP