> <

صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی۔ شوکت صدیقی

شوکت صدیقی اردو کے نامور ترقی پسند ادیب، ناول و افسانہ نگار، صحافی اور کالم نویس شوکت صدیقی 20 مارچ 1923ء کو لکھنومیں پیدا ہوئے تھے۔ان کا سب سے معرکہ آرا ناول ’’خدا کی بستی‘‘ کو سمجھا جاتا ہے۔ اس ناول کو 1960ء میں پہلا آدم جی ادبی انعام ملا تھا تاہم اس کی اصل مقبولیت اس وقت شروع ہوئی جب اسے 1969ء میں پاکستان ٹیلی وژن پر پیش کیا گیا۔ خدا کی بستی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اسے تین مرتبہ ٹیلی وژن پر پیش کیا گیا اور اس کے 42 زبانوں میں تراجم ہوئے۔ اس ناول کے اردو زبان میں بھی پچاس سے زائد ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔ ان کا ایک اور مشہور ناول ’’جانگلوس‘‘ ہے جو سب سے پہلے سب رنگ ڈائجسٹ میں قسط وار شائع ہوا اور پھر اسے پاکستان ٹیلی وژن پرپیش کیا گیاتاہم بعض وجوہ کی بنیاد پر اسے مکمل نشر نہ کیا جاسکا۔ شوکت صدیقی کی دیگر تصانیف میں افسانوں کے مجموعے تیسرا آدمی‘ اندھیرا اور اندھیرا‘ راتوں کا شہر، رات کی آنکھیں، کوکا بیلی، کیمیا گر، شریف آدمی ،عشق کے دوچار دن اور ناول چار دیواری اور کمین گاہ اور اخباری کالموں کے مجموعے طبقاتی جدوجہد اور بنیاد پرستی شامل ہیں۔ شوکت صدیقی روزنامہ انجام اور روزنامہ مساوات کے مدیر بھی رہے۔ حکومت پاکستان نے ان کی اعلیٰ ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں 14 اگست 1997ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور بعد ازاں ستارہ امتیاز عطا کیا تھا۔ اکادمی ادبیات پاکستان نے 2002ء میں انہیں کمال فن ایوارڈ سے نوازاتھا اور 2004ء  میں انہیں عالمی فروغ اردو ادب ایوارڈ دیا گیا تھا۔ 18 دسمبر2006ء کو شوکت صدیقی کراچی میں وفات پاگئے۔وہ کراچی میںڈیفنس سوسائٹی کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں ۔

UP