> <

صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی۔ فاطمہ ثریا بجیا

فاطمہ ثریا بجیا اردو کی نامور ادیبہ فاطمہ ثریا بجیا یکم ستمبر 1930ء کو حیدرآباد دکن میں پیدا ہوئیں۔ ان کا تعلق ایک تعلیم یافتہ ادبی گھرانے سے ہے۔ ان کے نانا مزاج یار جنگ اپنے زمانے کے معروف شعرا میں شمار ہوتے تھے جبکہ ان کے والد قمر مقصود حمیدی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے فارغ التحصیل تھے۔ ان کے خانوادے میں زہرا نگاہ، احمد مقصود حمیدی، انور مقصود ، سارہ نقوی اور زبیدہ طارق شامل ہیں جو اپنے اپنے شعبوں کے نمایاں افراد میں شمار ہوتے ہیں۔ محترمہ فاطمہ ثریا بجیا نے 1965ء کی جنگ کے دوران مقبول ہونے والے جنگی ترانوں کا مجموعہ ’’جنگ ترنگ‘‘ کے نام سے مرتب کیااور پاکستان ٹیلی وژن کے لیے لاتعداد ڈرامہ سیریل تحریر کیے جن میں اوراق، شمع، افشاں، عروسہ، اساوری، گھر اک نگر، آگہی، انا، کرنیں، بابر اور آبگینے کے نام سرفہرست ہیں۔ حکومت پاکستان نے انھیں 14 اگست 1996 ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور بعد ازاں ہلال امتیازعطا کیا جبکہ حکومت جاپان نے بھی انہیں اپنا اعلیٰ ترین شہری اعزازعطا کیا ہے۔ محترمہ فاطمہ ثریا بجیا کی سوانح عمری’’ بجیا : برصغیرکی عظیم ڈرامہ نویس... فاطمہ ثریا بجیا کی کہانی‘‘ کے عنوان سے شائع ہوچکی ہے ۔

UP