> <

صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی۔ قتیل شفائی

 قتیل شفائی اردو کے معروف شاعر قتیل شفائی کا اصل نام اورنگزیب خان تھا اور وہ 24 دسمبر 1919ء کو ہری پور ہزارہ میں پیدا ہوئے تھے۔ قتیل شفائی نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی اسکول ہری پور میں حاصل کی تھی۔ بعدازاں وہ راولپنڈی میں قیام پذیر ہوئے جہاں انہوں نے حکیم محمد یحییٰ شفا سے اپنے کلام پر اصلاح لینا شروع کی اور انہی کی نسبت سے خود کو شفائی لکھنا شروع کیا۔ قیام پاکستان سے کچھ عرصہ قبل وہ لاہور منتقل ہوگئے جہاں احمد ندیم قاسمی کی قربت نے ان کی علمی اور ادبی آبیاری کی۔ 1948ء میں ریلیز ہونے والی پاکستان کی پہلی فلم ’’تیری یاد‘‘ کی نغمہ نگاری سے ان کے فلمی سفر کا آغاز ہوا جس کے بعد انہوں نے مجموعی طور پر 201 فلموں میں 900 سے زائد گیت تحریر کئے۔ وہ پاکستان کے پہلے فلمی نغمہ نگار تھے جنہیں بھارتی فلموں کے لئے نغمہ نگاری کا اعزاز بھی حاصل ہوا تھا۔ قتیل شفائی نے کئی فلمیں بھی بنائیں جن میں پشتو فلم ’’عجب خان آفریدی‘‘ کے علاوہ ہندکو زبان میں بنائی جانے والی پہلی فلم ’’قصہ خوانی‘‘ شامل تھی۔ انہوں نے اردو میں بھی ایک فلم ’’اک لڑکی میرے گاؤں کی‘‘ بنانی شروع کی تھی مگر یہ فلم مکمل نہ ہوسکی۔ فلمی مصروفیات کے ساتھ ساتھ قتیل شفائی کا ادبی سفر بھی جاری رہا اور وہ اردو کے ممتاز شاعروں میں شمار ہوئے۔ ان کے شعری مجموعوں میں ہریالی، گجر، جل ترنگ، روزن، گھنگرو، جھومر، مطربہ، چھتنار، پیراہن، برگد، آموختہ، گفتگو، آوازوں کے سائے اور سمندر میں سیڑھی کے نام شامل ہیں۔ ان کی آپ بیتی ان کی وفات کے بعد ’’گھنگرو ٹوٹ گئے‘‘ کے نام سے اشاعت پذیر ہوئی۔ حکومت پاکستان نے انہیں 14 اگست 1994ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی کا اعزاز عطا کیا تھا۔ اِس کے علاوہ، قتیل شفائی نے آدم جی ایوارڈ، نقوش ایوارڈ، اباسین آرٹ کونسل ایوارڈ اور امیر خسرو ایوارڈ بھی حاصل کیے۔ قتیل شفائی 11 جولائی 2001ء کو لاہور میں وفات پاگئے اور لاہور میں علامہ اقبال ٹاؤن کے کریم بلاک کے قبرستان میں آسودہ خاک ہوئے۔

UP