> <

صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی۔ نثار بزمی

نثار بزمی پاکستان کے نامور فلمی موسیقار نثار بزمی کا اصل نام سید نثار احمد تھا اور وہ یکم  دسمبر 1924ء کو صوبہ مہاراشٹر کے ضلع خان دیش کے صدر مقام جل گائوں میں پیدا ہوئے تھے۔ نثار بزمی کا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے تھا تاہم انہیں بچپن ہی سے موسیقی سے شغف تھا۔ جب ان کے ایک استاد نے ان کے والد سے ان کے اس شوق کے بارے میں بتایا تو ان کے والد نے انہیں موسیقی کی باقاعدہ تربیت حاصل کرنے کے لئے بمبئی بھیج دیا۔ نثار بزمی نے بمبئی میں استاد امان علی خان بھنڈی بازار والے سے موسیقی کی تربیت حاصل کی۔ ابتدا میں انہوں نے ریڈیو کے چند ڈراموں میں موسیقی دی جس کے بعد انہوں نے1946ء سے 1961ء تک بھارت کی متعدد فلموں میں موسیقی دینے کا اعزاز حاصل کیا۔ نثار بزمی 1962ء میں پاکستان آگئے جہاں انہیں فضل احمد کریم فضلی نے اپنی اردو فلم ’’ایسا بھی ہوتا ہے‘‘ کی موسیقی ترتیب دینے کے لئے کہا۔ نثار بزمی پاکستان میں اپنی اس پہلی فلم ہی سے صف اول کے موسیقاروں میں شامل ہوگئے۔ اس کے بعد نثار بزمی نے پاکستان کی لاتعداد فلموں کی موسیقی ترتیب دی جن میں ہیڈ کانسٹیبل، عادل، وقت کی پکار، حاتم طائی، آگ، لاکھوں میں ایک، صاعقہ، انجمن، تہذیب، محبت، آسرا، عندلیب، ناز، شمع اور پروانہ، ناگ منی، میری زندگی ہے نغمہ، آس، تلاش، ہم ایک ہیں، نغمات کی رات اور سونیا کے نام سرفہرست ہیں۔ نثار بزمی نے مجموعی طور پر 69 فلموں کی موسیقی ترتیب تھی جس میں ان کے کمپوز کئے گئے نغمات کی مجموعی تعداد 495 تھی۔ اداکار ندیم کو سب سے پہلے بطور گلوکار انہوں نے ہی اپنی ایک فلم میں متعارف کروایا تھا مگر یہ فلم نمائش پذیر نہیں ہوسکی تھی۔ انہوں نے طاہرہ سید، نیرہ نور، عالم گیر اور حمیرا چنا کو بھی پہلی مرتبہ اپنی ہی فلموں میں متعارف کروایا تھا۔ ان کی آخری فلم ’’ویری گڈ دنیا ویری بیڈ لوگ‘‘ تھی جو 2000ء میں نمائش پذیر ہوئی تھی۔ نثار بزمی کو حکومت پاکستان نے14 اگست 1994 ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ وہ ایک خوش گو شاعر بھی تھے اور ان کا شعری مجموعہ ’’پھر ساز صدا خاموش ہوا‘‘ بھی شائع ہوچکا ہے۔ نثار بزمی کا انتقال 23 مارچ 2007ء کو کراچی میں ہوا۔ وہ شمالی کراچی میں قبرستان محمد شاہ میں آسودہ خاک ہیں۔  

UP