> <

صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی۔ فارغ بخاری

فارغ بخاری اردو کے ممتاز شاعر، ادیب اور نقاد فارغ بخاری کا اصل نام سید میر احمد شاہ تھا اور وہ 11 نومبر 1917ء  کو پشاور میں پیدا ہوئے تھے۔ ابتدا ہی سے ادب کی ترقی پسند تحریک سے وابستہ رہے اور اس سلسلے میں انہوں نے قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں انہوں نے رضا ہمدانی کے ہمراہ پشتو زبان و ادب اور ثقافت کے فروغ کے لئے بیش بہا کام کیا۔ ان کی مشترکہ تصانیف میں ادبیات سرحد، پشتو لوک گیت، سرحد کے لوک گیت، پشتو شاعری اور پشتو نثر شامل ہیں۔ ان کے شعری مجموعوں میں زیرو بم، شیشے کے پیراہن، خوشبو کا سفر، پیاسے ہاتھ، آئینے صداؤں کے اور غزلیہ کے نام سرفہرست تھے۔ ان کی نثری کتب میں شخصی خاکوں کے دو مجموعے البم، مشرقی پاکستان کا رپورتاژ، برات عاشقاں اور خان عبدالغفار خان کی سوانح عمری باچا خان شامل ہیں۔ حکومت پاکستان نے 14 اگست 1994ء کو انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی کا اعزاز عطا کیا تھا۔ فارغ بخاری 13 اپریل 1997ء کو پشاور میں وفات پاگئے۔وہ پشاور ہی میں آسودہ خاک ہیں۔

UP