> <

صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی۔ ڈاکٹر عطا الرحمٰن

ڈاکٹر عطا الرحمٰن پاکستان کے نامور سائنسدان اور ماہر تعلیم ڈاکٹر عطا الرحمٰن 22 ستمبر 1942ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ ڈاکٹر عطا الرحمٰن کے دادا جسٹس سر عبدالرحمٰن دہلی اور پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور مدراس ہائی کورٹ اور فیڈرل کورٹ آف پاکستان کے جج رہے تھے جبکہ ان کے والد جمیل الرحمٰن قانون دان اور صنعت کار  تھے ۔ ڈاکٹر عطا الرحمٰن نے جامعہ کراچی اور کیمبرج یونیورسٹی تعلیم حاصل کی اور تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوئے۔ وہ ایک طویل عرصے تک حسین ابراہیم جمال انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ رہے۔ 1999 میں انہیں سائنس اور ٹیکنالوجی کا وفاقی وزیر بنایا گیا۔ بعد ازاں وہ تعلیم کے وفاقی وزیر بنے جہاں انھوں نے ہائر ایجوکیشن کمیشن قائم کیا اور اس کے پہلے چیئرمین مقرر ہوئے۔ نامیاتی کیمسٹری کے کئی شعبہ جات میں پروفیسر عطاالرحمٰن کی 983 بین الاقوامی مطبوعات ہیں، جن میں 700 سے زیادہ تحقیقی مقالہ جات ، 26 پیٹنٹ اور 116 کتابیں ہیں جب کہ انہوں نے بہت سی ایسی کتابوں کے ابواب لکھے ہیں جو زیادہ ترامریکی اور یورپی پریس نے شائع کی ہیں۔ ڈاکٹر عطا الرحمٰن کو ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر دنیا بھر کے لاتعداد اداروں نے اپنے اعزازات سے نوازا ہے ، حکومت پاکستان نے انہیں 14 اگست 1992ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا ، اس کے علاوہ انہیں تمغہ امتیاز، ہلال امتیاز اور نشان امتیاز بھی مل چکے ہیں او دنیا بھر کی متعدد جامعات نے انہیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی اسناد سے بھی نوازا ہے۔

UP